زائر ہیں رواں شام و سحر سُوئے مدینہاے کاش ہو اپنا بھی سفر سُوئے مدینہ
سر سُوئے حرم، دل ہے مگر سُوئے مدینہسجدے ہیں بالفاظِ دگر سُوئے مدینہ
اِتنی ہو وارفتگئ شوقِ نظاراہر وقت ہو بیتاب نظر سُوئے مدینہ
اُٹھ اور نئے انداز سے اُٹھ میں تِرے صدقےلے چل مجھے اے دردِ جگر سُوئے مدینہ
ذرّاتِ مدینہ کی کِشش دیکھ رہا ہوںجاری ہے ستاروں کا سفر سُوئے مدینہ
ہر ذرّہ ہمہ طُور، ہمہ برقِ تجلّیباچشمِ کلیمانہ مگر سُوئے مدینہ
کب دیکھئے سرکار سے آتا ہے بُلاوادن رات ہے اختؔر کی نظر سُوئے مدینہ