روشن ہے دو عالم میں مہ روئے محمدکونین ہے عکس رخ نیکوئے محمد
تاباں ہے ہر اک شے میں رخ پاک کا جلوہہر گل سے چلی آتی ہےخوشبوئے محمد
ظاہر یہ ہوا آیہ اللہ رمیٰ سےہے قوت حق طاقت بازوئے محمد
جب نائب و محبوب خدا آپ ہی ٹھہرےپھر کیوں نہ ہو ہر چیز پہ قابوئے محمد
کعبے کی طرف کوئی نہ سر اپنا جھکا تاجھکتا نہ اگر وہ سوئے ابروئے محمد
مخلوق ہے جو یائے رضا مندی خالقاللہ تعالیٰ ہے رضا جوئے محمد
دیتی ہے دعاؤں سے تو ایذاؤں کا بدلہکیا خوب ہے عادت تری اے خوئے محمد
جب حشر میں کوئی بھی کرے گا نہ سفارشگھبرائے ہوئے آئیں گے سب سوئے محمد
سب منتظرِ رحمت معبود ہیں لیکنہے داور محشر کی نظر سوئے محمد
ان پر نہ پڑیں کس لیے عالم کی نگاہیںہے داور محشر کی نظر سوئے محمد
برسے گی شفاعت کی بھرن امت شہ پرجس وقت کھلے حشر میں گیسوئے محمد
مرجاؤں مدینے کے بیاباں میں الہٰیہونعش مری اور سگ کوئے محمد
تاریکی مرقد سے جو گھبرائے دل زارپر نور بنائیں اسے گیسوئے محمد
جنت تو منائیگی چلو میری طرف کواور میں یہ کہوں گا کہ نہیں سوئے محمد
تب جان میں جانِ آئے جمیل رضوی کےسگ اپنا بنائیں جو سگِ گوئے محمد
قبالۂ بخشش