1
دلِ مشتاق کی ہے آرزو بسکہ اُن قدموں پہ دیجے جان تو بس
تڑپنا لوٹنا اس خاکِ در پریہی حسرت، یہی ہے آرزو بس
2
ملے گر خاکِ صحرائے مدینہدلِ صد چاک ہو جائے رفو بس
کسی ڈھب ہو رسائی اُس گلی تکیہی کوشش، یہی ہے جستجو بس
3
تمامی ہم صفیر منزل کو پہنچےفقط پہنچا نہ کافؔی آہ تو بس