الہٰی روضۂ خیرالبشر پر میں اگر جاؤںتو اک سجدہ کروں ایسا کہ آپے سے گزر جاؤں
نجاتِ آخرت کا اس قدر ساماں کر جاؤںکہ طیبہ جاکے اک سجدہ کروں سجدے میں مرجاؤں
مدینے جانے والے سر کے بل جاتے ہیں جانے دومرے قسمت میں ہو جانا تو بارنگِ دِگر جاؤں
اڑادوں سب سے پہلے طائر جاں اس طرف اپناسہارے سے اسی طائر کے پھر بے بال و پر جاؤں
کبھی روضے سے منبر تک کبھی منبر سے روضے تکاِدھر جاؤں اُدھر جاؤں اسی حالت میں مرجاؤں
سگانِ کوچۂ دلدار کی پیہم بلائیں لوںتماشا بن کے رہ جاؤں مدینے میں جدھر جاؤں
میں کچھ درِّ شفاعت لےکے لوٹوں چشمِ رحمت کےجو دربارِ معالی میں کبھی باچشمِ تر جاؤں
تمہارے نام لیوا بےخطر جاتے ہیں محشر میںاشارہ ہو اگر مجھکو تو میں بھی بے خطر جاؤں
توجہ ان کرم پرور نگاہوں کی جو ہوجائےمرا ایماں سنور جائے میں ایماں سے سنور جاؤں
سمجھ کر کوچۂ جاناں میں جنت میں چلا آیاکوئے جاناں تو طیبہ ہے میں جاؤں تو کدھر جاؤں
خلیؔل اب زاد راہِ آخرت کی سعی احسن میںمدینے سر کے بل جاؤں وہاں پہنچوں تو مرجاؤں