حبیب خدا نظارا کروں میںدل و جان ان پر نثار کروں میں
تری کفش پا یوں سنوارا کروں میںکہ پلکوں سے اس کو بہارا کروں میں
تری رحمتیں عام ہیں پھر بھی پیارےیہ صدمات فرقت سہارا کروں میں
مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کر لےسوا تیرے سب سے کنارا کروں میں
میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤںترے در سے اپنا گزارا کروں میں
سلاسل مصائب کے ابرو سے کاٹوکہاں تک مصائب گوارا کروں میں
خدا را اب آؤ کہ دم ہے لبوں پردم واپسیں تو نظارا کروں میں
ترے نام پر سر کو قربان کر کےترے سر سے صدقہ اتارا کروں میں
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروروںترے نام پر سب کو وارا کروں میں
مجھے ہاتھ آئے اگر تاج شاہیتری کفش پا پر نثارا کروں میں
ترا ذکر لب پر خدا دل کے اندریونہی زندگانی گزارا کروں میں
دم واپسیں تک ترے گیت گاؤںمحمد محمد پکارا کروں میں
ترے در کے ہوتے کہاں جاؤں پیارےکہاں اپنا دامن پسارا کروں میں
مرا دین و ایماں فرشتے جو پوچھیںتمہاری ہی جانب اشارا کروں میں
خدا ایسی قوت دے میرے قلم میںکہ بدمذہبوں کو سدھارا کروں میں
جو ہو قلب سونا تو یہ ہے سہاگاتری یاد سے دل نکھارا کروں میں
خدا ایک پر ہو تو اک پر محمداگر قلب اپنا دو پارا کروں میں
خدا خیر سے لائے وہ دن بھی نورؔیمدینے کی گلیاں بہارا کروں میں
صبا ہی سے نورؔی سلام اپنا کہہ دےسوا اس کے کیا اور چارا کروں میں
سامانِ بخشش