جس کو عشقِ سیّد کون و مکاں حاصل ہوااہلِ ایماں میں اُسی کا مرتبہ کامل ہوا
ہے وہی اہلِ جہاں میں اہلِ دل، اے دو ستوالفتِ خیرالورا میں جو کوئی بے دل ہوا
مسکنِ حُبِّ رسول اللہ جس کا دل ہواوہی عارف، وہی کامل، اور وہی واصل ہوا
حرزِ جاں جس نے کیا اسم ِ رسول اللہ کواس کے اوپر سے تمامی درد و غم زائل ہوا
یوں ہوا وارد حدیثِ صاحبِ لَوْلَاک میںجو مکاں کوئی جہاں میں قابلِ محفل ہوا
ہے سعیدِ دو جہاں وہ جو کوئی لیل و نہارنعتِ اوصافِ رسول اللہ کو شاغل ہوا
اور اہلِ بزم نے بھیجا وہاں مجھ پر دُرودنورِ رحمت اُن سبھوں کی جان کا شامل ہوا
نوح کی کشی ہے حُبِّ اہلِ بیتِ مصطفیٰﷺساحلِ مقصد پہ پہنچا اُس میں جو داخل ہوا
رحمتِ عالَم کا، اے کافؔی! وسیلہ جب کیاحَلّ و آساں واہ واہ کیا عقدۂ مشکل ہوا