جان و دل سے تم پہ میری جان قرباں غوث پاکہے سلامت تم سے میرا دین و ایماں غوثِ پاک
میں ترا ادنیٰ بھکاری تو مرا سلطان ہےہے قسم حق کی یہ میرا دین و ایماں غوث پاک
میں ترا مملوک تو مالک میں بندہ تو ہے شاہتو سلیماں اور میں مورسلیماں غوث پاک
سجدہ گاہ اولیائے دہر ہے نقش قدماور تری نعل مقدس تاج شاہاں غوث پاک
اولیا ہیں سب سلاطین ہم رعایأ و غلاماولیاء سب ہیں رعیت اور سلطاں غوث پاک
ہاتھ خالی روسیہ عاصی یہ سب کچھ ہوں مگرنام ہے تیرا مرے سینے میں پنہاں غوث پاک
آپ کی چشم کرم کا اک اشارہ ہو اگردوجہاں کی مشکلیں ہوجائیں آساں غوث پاک
ناز قسمت پر کروں پاؤں جہاں کی سروریتیری چوکھٹ کا اگر بن جاؤں درباں غوث پاک
کب بلائیں اپنے در پر کب رخِ انور دکھائیںکب نکالیں دیکھو میرے دل کا ارماں غوث پاک
میری آنکھیں تیرا گنبد تیری چوکھٹ میرا سرمیرا لاشہ اور ہوتیرا بیاباں غوث پاک
زندگی میں نزع میں مرقدحشر و نشر میںہر جگہ ہیں اپنے بندوں کے نگہبان غوث پاک
آپ کا نام مقدس میرے دل پر نقش ہےمیری بخشش کے لیے کافی ہے ساماں غوث پاک
ہم بھی عصیاں لے کے جائیں گے بدلینے کےلیےحشر میں کھولیں گے جب رحمت کی دکاں غوث پاک
کوئی پوچھے پانہ پوچھے بات کچھ خطرہ نہیںحشر میں ہیں ہم گہنگاروں کے پرساں غوث پاک
اپرسش اعمال کا ہے وقت مولیٰ المددنام لیووں کو چھپالو زیر داماں ماں غوث پاک
بھیجا تو نے ہی معین الدین چشتی کو یہاںہند میں تیرے سبب سے ہیں مسلماں غوث پاک
تیرے ہوتے ساتے آئے ہوں مسلمانوں میں ضعفالمدد یا عبدقادرشاہ جیلاں غوث پاک
کالے کالے کفر کے بادل امنڈ کر آئے ہیںالمدد یا قطب عالم شاہ جیلاں غوث پاک
لٹ رہا ہےقافلہ بغداد والے لے خبرالمدد بغداد والے شاہ جیلاں غوث پاک
لاج والے سنیوں کی لاج تیرے ہاتھ ہےقادری منزل کے دولھا شاہ جیلاں غوث پاک
ہو رضا پر لطف تیرا ہم پر ان کا لطف ہوان کا داماں ہمپہ ان پر داباں غوث پاک
کیجئے امداد عزت دوجہاں کی دیجئےہے جمیل قادری ادنیٰ ثنا خواں غوث پاک
قبالۂ بخشش