جاتے ہیں سوئے مدینہ گھر سے ہمباز آئے ہندِ بد اختر سے ہم
مار ڈالے بے قراری شوق کیخوش تو جب ہوں اِس دلِ مضطر سے ہم
بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے یہیاب کہاں جائیں تمہارے دَر سے ہم
تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیںہیں غلامانِ شہِ کوثر سے ہم
اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیعڈر چکے بس فتنۂ محشر سے ہم
نقشِ پا سے جو ہوا ہے سرفرازدل بدل ڈالیں گے اُس پتھر سے ہم
گردن تسلیم خم کرنے کے ساتھپھینکتے ہیں بارِ عصیاں سر سے ہم
گور کی شب تار ہے پر خوف کیالَو لگائے ہیں رُخِ انور سے ہم
دیکھ لینا سب مرادیں مل گئیںجب لپٹ کر روئے اُن کے دَر سے ہم
کیا بندھا ہم کو خد اجانے خیالآنکھیں ملتے ہیں جو ہر پتھر سے ہم
جانے والے چل دیئے کب کے حسنؔپھر رہے ہیں ایک بس مضطر سے ہم
ذوقِ نعت