بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
یَارَبْ
تو ہی ذو اقتدار ہے یاربصاحب اقتدار ہے یارب
تو ہے سب کائنات کا مولیٰمالک و کردگار ہے یارب
بخشتا ہے گناہگاروں کوتو ہی آمرزگار ہے یارب
ہے خلیؔل حزیں بھی بندہ تراگرچہ بدنام و خوار ہے یارب
ہے سزاوار ہر سزا کا مگرترا امیدوار ہے یارب
ہے سراپا گناہوں میں غرقابہاں مگر شرمسار ہے یارب
اب تو ہو لطف اپنے بندے پرمشکلوں سے دوچار ہے یارب
تو نہ پوچھے تو وہ کدھر جائےہر طرف خارزار ہے یارب
نام کی بھی نہیں کوئی نیکیہاں گناہوں کا بار ہے یارب
اب سکوں ہے، نہ دل کو اطمینانزندگی گویا بار ہے یارب
معترف دل سے ہے خطاؤں کاآنکھ بھی اشکبار ہے یارب
تیری رحمت کا اور تیرےفضل کا خواستگار ہے یارب
اک سہارا ترے حبیبﷺ کا ہےاک وہی غم گسار ہے یارب
اُن کے صدقے میں سن مری فریادتو بڑا ذی وقار ہے یارب
تو ہی سنتا ہے نیک و بد کی پکارتیری ہر سُو پکار ہے یارب
تیرے ہاتھوں میں سب کی روزی ہےتو ہی پروردگار ہے یارب
ہاں کرم کا اشارہ ہوجائےبیڑا پھر میرا پار ہے یارب
خوش سے خوش تر ہے اب خلیؔل حزیںکہ تو آمرزگار ہے یارب
اصل میں یوں ہےبد سے بدتر ہے گو خلیل حزیںتُو تو آمرزگار ہے یارب