تم کو یدِ قدرت نے کیا خوب سنوارا ہےوَالنَّجم کا منظر ہے طٰہٰ کا نظارا ہے
گو طُور کا جلوہ بھی آنکھوں گوارا ہےطیبہ کا نظارا پھر طیبہ کا نظارا ہے
اس ذاتِ گرامی کو سمجھا تو خدا سمجھاجس ذاتِ گرامی پر قرآن اتارا ہے
تم شافع و نافع ہوﷺ، میں خاطئ و عاصیﷺ ہوںپیارا جو تمھارا ہے اللہ کو پیارا ہے
وہ جس نے شرف بخشا آغوشِ یتیمی کواسلام کی قسمت ہے دنیا کا سہارا ہے
کیوں بھیک کسی در سے سرکارﷺ بھلا مانگوںآقاﷺ تِرے ٹکڑوں پر میرا تو گزارا ہے
لبّیک کی آتی ہے آواز ہر اِک دل سےشاید سرِ فاراں سے پھر ہم کو پکارا ہے
اَخلاق کے شانے سے اے جانِ کرم تو نےایک ایک خمِ گیسو ہستی کا سنوارا ہے
دامن تِرے ہاتھوں میں ہے حضرتِ حسّاں کاکس اوج پہ اے اختؔر قسمت کا ستارا ہے