بے سہاروں کا کوئی سہارا نہیںمیری قسمت کا روشن ستارا نہیں
یانبیﷺ آئیے رحم فرمائیےناؤ طوفان میں ہے کنارا نہیں
یہ ہے رضواں دیارِ حبیب خداﷺباغِ خلد بریں کا نظارا نہیں
یہ چمک میری اشکِ ندامت کی ہےعرشِ اعظم کا کوئی ستارا نہیں
اس کو دنیا و عقبیٰ سے کیا واسطہجو مرے کملی والے تمھارا نہیں
جاسکے گا نہ کوئی کبھی خلد میںتیری انگشت کا گر اشارا نہیں
گل میں ان کی مہک چاند میں روشنیکملی والے نے کس کو سنوارا نہیں
اپنے درپہ ہمیں بھی بلا لیجئےتجھ بن اے کملی والے گذارا نہیں
کاش آواز آئے لبِ پاک سےکون کہتا ہے اخؔتر ہمارا نہیں