بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کیسواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی
کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواری جراحت کیفضا ہر زخم کی دامن سے وابستہ ہے جنت کی
گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں اُمت کیکوئی تقدیر تو دیکھے اَسیرانِ محبت کی
شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیوں کر ہوہوائیں آتی ہیں ان کھڑکیوں سے باغِ جنت کی
کرم والوں نے دَر کھولا تو رحمت نے سماں باندھاکمر باندھی تو قسمت کھول دی فضل شہادت کی
علی کے پیارے خاتونِ قیامت کے جگر پارےزمیں سے آسماں تک دُھوم ہے اِن کی سیادت کی
زمین کربلا پر آج مجمع ہے حسینوں کاجمی ہے انجمن روشن ہیں شمعیں نور و ظلمت کی
یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونک دیں اپنے فدائی کویہ وہ شمعیں نہیں رو کر جو کاٹیں رات آفت کی
یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جانِ تازہ پائیں پروانےیہ وہ شمعیں ہیں جو ہنس کر گزاریں شب مصیبت کی
یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اک گھر منور ہویہ وہ شمعیں ہیں جن سے رُوح ہو کافور ظلمت کی
دلِ حور و ملائک رہ گیا حیرت زدہ ہو کرکہ بزم گل رُخاں میں لے بلائیں کس کی صورت کی
جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیںہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی
اسی منظر پہ ہر جانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیںاسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی
ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اشکِ یتیماں سےبجائے فرش آنکھیں بچھ گئیں اہلِ بصیرت کی
ہواے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کےسبیلیں رکھی ہیں دیدار نے خود اپنے شربت کی
اُدھر افلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کےادھر ساغر لیے حوریں چلی آتی ہیں جنت کی
سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستےبہارِ خوشنمائی پر ہے صدقے رُوح جنت کی
ہوائیں گلشن فردوس سے بس بس کر آتی ہیںنرالی عطر میں ڈوبی ہوئی ہے رُوح نکہت کی
دلِ پُر سوز کے سُلگے اگر سوز ایسی حرکت سےکہ پہنچی عرش و طیبہ تک لَپٹ سوزِ محبت کی
ادھر چلمن اُٹھی حسنِ ازل کے پاک جلوؤں سےادھر چمکی تجلی بدرِ تابانِ رسالت کی
زمین کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہےکہ کھنچ کھنچ کر مٹی جاتی ہیں تصویریں قیامت کی
گھٹائیں مصطفیٰ کے چاند پر گھر گھر کر آئی ہیںسیہ کارانِ اُمت تِیرہ بختانِ شقاوت کی
یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اُس کے خون کے پیاسےبجھے گی پیاس جس سے تشنہ کامانِ قیامت کی
اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وار چلتے ہیںمٹا دی دین کے ہمراہ عزت شرم و غیرت کی
مگر شیر خدا کا شیر جب بپھرا غضب آیاپَرے ٹوٹے نظر آنے لگی صورت ہزیمت کی
کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوشِ دلیری نےبہادر آج سے کھائیں گے قسمیں اِس شجاعت کی
تصدق ہو گئی جانِ شجاعت سچے تیور کےفدا شیرانہ حملوں کی اَدا پر رُوح جرأت کی
نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکےنکل آتی زمین کربلا سے نہر جنت کی
مگر مقصود تھا پیاسا گلا ہی اُن کو کٹواناکہ خواہش پیاس سے بڑھتی رہے رُؤیت کے شربت کی
شہید ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پرجو موجیں باڑ پر آ جاتی ہیں دریاے اُلفت کی
یہ وقتِ زخم نکلا خوں اچھل کر جسمِ اطہر سےکہ روشن ہو گئی مشعل شبستانِ محبت کی
سرِ بے تن تن آسانی کو شہر طیبہ میں پہنچاتنِ بے سر کو سرداری ملی مُلکِ شہادت کی
حسنؔ سُنّی ہے پھر افراط و تفریط اِس سے کیوں کر ہواَدب کے ساتھ رہتی ہے روش اربابِ سُنت کی
ذوقِ نعت