اے باد صبا رک جا دم بھر سن لے تو میری فریاد و فغاںسلطانِ دو عالمﷺ کے در پر کر دینا تو ان باتوں کو عیاں
میں اپنے کئے پر نادم ہوں للّہ چھپالو دامن میںاظہار خطا سے کیا ہوگا اے واقف اسرارِ پنہاں
یہ شام و سحر یہ تاج و قمر یہ فرشِ زمیں یہ عرش بریںیہ جن و ملک جبریل امیں سب تیرے ہیں زیر فرماں
ہر سمت سے موجیں اٹھتی ہیں اک ایک سہارا ٹوٹ گیاساحل سے لگا دو کشتی کو اے شاہ رسل اے شاہ زماں
کہنا کہ تڑپتا ہے اخؔتر بلوالو اسے در پر سروریا اتنا بتا دے اے مولا یہ تیراگدا اب جائے کہاں