اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہےدلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تو ہی والی ہے
نہ ہو مایوس آتی ہے صدا گورِ غریباں سےنبی امّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے
اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لےاندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے
ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آ گئی سر پرکہاں سویا مسافر ہائے کتنا لا اُبالی ہے
اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اُکتاتاخدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے
زمیں تپتی کٹیلی راہ بھاری بوجھ گھائل پاؤںمصیبت جھیلنے والے تِرا اللہ والی ہے
نہ چونکا دن ہے ڈھلنے پر تِری منزل ہوئی کھوٹیارے او جانے والے نیند یہ کب کی نکالی ہے
رضؔا منزل تو جیسی ہے وہ اک میں کیا سبھی کو ہےتم اس کو روتے ہو یہ تو کہو یاں ہاتھ خالی ہے
حدائقِ بخشش