دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئےمرے دل میں چین آئے تو اسے قرار آئے
تری وحشتوں سے اے دل مجھے کیوں نہ عار آئےتو اُنھیں سے دُور بھاگے جنھیں تجھ پہ پیار آئے
مرے دل کو دردِ اُلفت وہ سکون دے الٰہیمری بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے
مجھے نزع چین بخشے مجھے موت زندگی دےوہ اگر مرے سرھانے دمِ احتضار آئے
سببِ وفورِ رحمت میری بے زبانیاں ہیںنہ فغاں کے ڈھنگ جانوں نہ مجھے پکار آئے
کھلیں پھول اِس پھبن کے کھلیں بخت اِس چمن کےمرے گل پہ صدقے ہو کے جو کبھی بہار آئے
نہ حبیب سے محب کا کہیں ایسا پیار دیکھاوہ بنے خدا کا پیارا تمھیں جس پہ پیار آئے
مجھے کیا اَلم ہو غم کا مجھے کیا ہو غم اَلم کاکہ علاج غم اَلم کا میرے غمگسار آئے
جو امیر و بادشا ہیں اِسی دَر کے سب گدا ہیںتمھیں شہر یار آئے تمھیں تاجدار آئے
جو چمن بنائے بَن کو جو جِناں کرے چمن کومرے باغ میں الٰہی کبھی وہ بہار آئے
یہ کریم ہیں وہ سرور کہ لکھا ہوا ہے دَر پرجسے لینے ہوں دو عالم وہ اُمیدوار آئے
ترے صدقے جائے شاہا یہ ترا ذلیل منگتاترے دَر پہ بھیک لینے سبھی شہر یار آئے
چمک اُٹھے خاکِ تیرہ بنے مہر ذرّہ ذرّہمرے چاند کی سواری جو سر مزار آئے
نہ رُک اے ذلیل و رُسوا درِ شہریار پر آکہ یہ وہ نہیں ہیں حاشا جنھیں تجھ سے عار آئے
تری رحمتوں سے کم ہیں مرے جرم اس سے زائدنہ مجھے حساب آئے نہ مجھے شمار آئے
گل خلد لے کے زاہد تمھیں خارِ طیبہ دے دوںمرے پھول مجھ کو دیجے بڑے ہوشیار آئے
بنے ذرّہ ذرّہ گلشن تو ہو خار خار گلبنجو ہمارے اُجڑے بَن میں کبھی وہ نگار آئے
ترے صدقے تیرا صدقہ ہے وہ شاندار صدقہوہ وقار لے کے جائے جو ذلیل و خوار آئے
ترے دَر کے ہیں بھکاری ملے خیر دم قدم کیترا نام سن کے داتا ہم اُمیدوار آئے
حسنؔ اُن کا نام لے کر تو پکار دیکھ غم میںکہ یہ وہ نہیں جو غافل پسِ اِنتظار آئے