اس روئے والضحیٰ کی صفا کچھ نہ پوچھئےآئینہ جمال خدا کچھ نہ پوچھئے
ہم سے سیاہ بختوں کو سائے میں لے لیافضل سحاب زلفِ دوتا کچھ نہ پوچھئے
قوسین پر وہ نورِ اَو ادنیٰ میں چھپ گئےپھر کیا ہوا ہوا جو ہوا کچھ نہ پوچھئے
ان کے حضور ہاتھ اٹھانے کی دیر تھیپھر کیا ملا ملا جو ملا کچھ نہ پوچھئے
اپنے کو دے دیا ہمیں خواجہ کی شکل میںمیرے نبیﷺ کی شان عطا کچھ نہ پوچھئے
وہ آخری گھڑی میری بالیں پہ آگئےحیرت سے تک رہی تھی قضا کچھ نہ پوچھئے
خواجہ کے درکا ایک میں ادنیٰ غلام ہوںآزاد ہوں بس اس کے سوا کچھ نہ پوچھئے
آواز دے رہا ہے یمن کا غریق عشقفرقت کے روز و شب کا مزا کچھ نہ پوچھئے
اخؔتر فضائے خلد بریں خوب ترسہیشہر نبیﷺ کی آب و ہوا کچھ نہ پوچھئے