اُس رُخِ پاک کا جس بزم میں چرچا ہوگادر و دیوار سے واں نور برستا ہوگا
کیوں نہ ہو غیرتِ برگِ شجر طور زباںجب مِرے مُنھ میں تِرا وصفِ سراپا ہوگا
حَبَّذَا صاف جبیں صَلِّ عَلٰی پیشانیشعلۂ طورِ خجل دیکھ یہ ماتھا ہوگا
ماہِ نو عیدِ شفاعت کا چمک جائے گاجس طرف حشر میں ابرو کا اشارہ ہوگا
پھر تصور درِ دنداں کا بندھا آنکھوں میںپھر درِ اشک مِرا گوہرِ یکتا ہوگا
جو مدینے کے مکانوں کی کرے گا تعریفہے یقین اُس کا مکاں جنّتِ ماوا ہوگا
ہم کو اُمّیدِ قوی ہے کہ صفِ محشر میںتیرے مدّاحوں کا اِک رتبۂ اعلیٰ ہوگا
اُس قدِ پاک کے سائے کا بند ھا ہے جو خیالاخترِ بخت عدم میں مِرا چمکا ہوگا
حُسنِ محبوبِ خدا کا ہے یہ حُسنِ اعجازحشر تک ایک جہاں والہ و شیدا ہو
تیرا کوچہ ہے عجب گُلشنِ جاویدِ بہارخوش نصیب اُس کا کہ واں گرم تماشا ہوگا
ہم صفیر و مِرا احوال تو کہلا بھیجوکوئی زوّار مدینے کو بھی جاتا ہوگا
نا گہاں رنج و محن سے جو رہائی پائےہے یقیں واں لبِ جاں بخش ہلاتا ہوگا
شان محبوبی سے جب آپ نکل آئیں گےروکشِ صحنِ چمن عرش کا عرصا ہوگا
جائیں گے سوئے چمن گنجِ قفس سے چھٹ کراپنی قسمت میں کوئی اور بھی ایسا ہوگا
کون کہتا تھا شفا ہوگی نصیبِ بیمارکس کو اُمّید تھی اس درد کو اچھا ہوگا
گو نہیں مُلکِ عدم میں اثرِ شمس و قمرآپ کے سائے کا واں نور تجلی ہوگا
ہے مدینے کی زیارت کا جو کافؔی مشتاقپھر ارادہ مِرا، یا رب! کبھی پورا ہوگا