اس دیارِ قدس میں لازم ہے اے دل احتیاطبے ادب ہیں کر نہیں پاتے جو غافل احتیاط
جی میں آتا ہے لپٹ جاؤں مزار پاک سےکیا کروں ہے میرے ارمانوں کی قاتل احتیاط
اضطراب عشق کا اظہار ہو بے حرف و صوتاے غم دل احتیاط اے وحشت دل احتیاط
عشق کی خودرفتگی بھی حسن سے کچھ کم نہیںہے مگر اس حسن کے رخسار کا تل احتیاط
انکے دامن تک پہونچ جائیں نہ چھینٹیں خون کیہے تڑپنے میں لازم مرغ بسمل احتیاط
آبتاؤں تجھ کو میں ارشاد اَوْادنیٰ کا رازان کے ذکر قرب میں لازم ہے کامل احتیاط
صرف سدرہ تک رفاقت اور پھر عذر لطیفعقل والو ہے ادائے عقل کامل احتیاط
بس اسی کو ہے ثنائے مصطفیٰﷺ لکھنے کا حقجس قلم کی روشنائی میں ہو شامل احتیاط
نام پر توحید کے انکار تعظیم رسولﷺکیا غضب ہے کفر کو کہتے ہیں جاہل احتیاط
اس ادب نا آشنا ماحول میں اخؔتر کہیںرہ نہ جائے ہو کے مثل حرف باطل احتیاط