اس آفتاب رخ سے اگر ہوں دو چار پھولحربا ہوں رنگ بدلیں ابھی بار بار پھول
دامن میں ہیں لیے ہوے بہر نثار شاہشبنم سے سینکروں گہر آبدار پھول
صیقل گر چمن ہو جو اس کی ہوائے لطفپھر بلبلوں سے دل میں نہ رکھیں غبار پھول
اللہ ری لطافت تن جس سے مانگ کرپہنے ہوئے ہیں پیرہن مستعار پھول
دستار پر اگر وہ گل کفش طرہ ہوخورشید آسمان پہ کریں افتخار پھول
اللہ نے دیا ہے یہ اس کو جمال پاکسنبل فدا ہے زلف پہ رخ پر نثار پھول
اللہ کیا دہن ہے کہ باتیں ہیں معجزہہوتے ہیں ایک غنچہ سے پیدا ہزار پھول
وہ چہرہ وہ دہن کہ فدا جن پہ کیجئےستر ہزار غنچے بہتر زار پھول
امت کا بوجھ پشت پہ اپنے اٹھا لیاطاقت کی بات ہے کہ بنا کو ہسا ر پھول
یہ فیض تھا اسی کا کہ حق میں خلیل کےاخگر ہوئے تمام دم اضطرار پھول
ادنی یہ معجزہ تھا کہ اک چوب خشک میںپتے لگے ہزار پھل آئے ہزار پھول
یا شاہ دیں ہیں تیری عنایت سے فیضیابجتنے ہیں رونق چمن روزگار پھول
امت پہ وقف باغ شفاعت ہے آپ کامجھ کو بھی اس چمن سے عنایت ہوں چار پھول
غنچے کی طرح آپ کے دشمن گرفتہ دلخنداں ہو دوست جیسے کہ روز بہار پھول
وقت دعا ہے ہاتھ دعا کو اٹھا امیرجب تک کھلیں چمن میں سر شاخسار پھول
کلام:امیر مینائ