احسان و کرم ہم پہ وہ کیا کیا نہیں کرتاوہ کون سی رحمت ہے کہ مولا نہیں کرتا
اُس گُلشنِ امکاں میں نہیں برگ کو جنبشجب تک کہ ہوا کو وہ اشارا نہیں کرتا
تدبیرِ عقیلانِ جہاں فعلِ عبث ہےکوئی خطِ تقدیر مٹایا نہیں کرتا
بے تیری عنایات کے، او معطیِ مطلق!مطلب کو مِرے کوئی بھی پورا نہیں کرتا
وہ کون سی مشکل ہے، مِرے خالقِ اکبر!آسان جسے لطف تمھارا نہیں کرتا
پھر پنجۂ قدرت سے مِرے کھول دے، یا رب !یہ عقدۂ مشکل جو کوئی وا نہیں کرتا
جُز مرحمت و بخشش و غفراں کوئی مرہمزخمِ دلِ صد چاک کو اچھا نہیں کرتا
یا رب! تِری درگاہ میں جُز رحمتِ عالَممیں اور کسی کا تو وسیلہ نہیں کرتا
اُس صاحبِ لَوْ لَاک رسولِ عربیﷺ کیخاطر، مِرے اللہ! تو کیا کیا نہیں کرتا
اِس اُمّت ِ عاصی کو مَعاصی کے سبب سےاللہ رے ستار کہ رُسوا نہیں کرتا
مقبولِ شفاعت وہ نبیﷺ صاحبِ کوثرکچھ ہم سے دریغ اپنی دعا کا نہیں کرتا
یہاں اور وہاں اُمّتِ عاصی کی رہائیوہ کون سا ہے روز کہ چاہا نہیں کرتا
اپنا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت کی دعا میںوقفہ میرے اللہ تو اصلا نہیں کرتا
دے بہر دعائے نبوی ﷺ مطلبِ کافؔیجُز عشقِ نبی ﷺ اور تمنّا نہیں کرتا