ابتدا و انتہائے مصطفیٰجانتا ہے بس خدائے مصطفیٰ
خاک پا اس کی ہے جنت کا عبیردل سے ہے جو خاک پائے مصطفیٰ
ہشت جنت شش جہت ہفت آسماںسب ہوئے پیدا برائے مصطفیٰ
ماسوائے حق جو ہیں فانی ہیں سبحق کہاں ہیں ماسوائے مصطفیٰ
لا مکاں میں ہم نشین حق ہوئےکس قدر برتر ہے پائے مصطفیٰ
مصطفیٰؐ ہیں خلق کے حاجت رواہے خدا حاجت روائے مصطفیٰ
اولیا سارے قضائے انبیاانبیا ہیں سب قضائے مصطفیٰ
حشر میں گھیرے تھے کیا مجھ کو گناہچل دیے جس وقت آئے مصطفیٰ
فقر سے شاہی سے مطلب کچھ نہیںمیں ہوں راضی جو رضائے مصطفیٰ
مشکلیں کیا نزع میں آساں ہوئیںوقت پر تشریف لائے مصطفیٰ
طور کا جلوہ تھا جلوہ آپ کالن ترانی تھی صدائے مصطفیٰ
جان حضرت جان تن حضرت کا تندست و پا ہیں دست و پائے مصطفیٰ
اولیا و انبیا محشر کے دنسب کریں گے اقتدائے مصطفیٰ
ہے عجب کشور مرے دل کا امیرؔدل میں والی ہے ولائے مصطفیٰ
کلام:امیر مینائ