تخلیقِ حسن و عشق کی ہے دلکشی درود
اس پوری کائنات کی ہے روشنی درود

خوشبو کا پیرہن اسے دیتی ہیں تتلیاں
پڑھتی ہے جب بھی شاخِ ثنا پر کلی درود

میرا خدا، خدا کے فرشتے، بشر تمام
بھیجیں مرے حضورؐ پہ مل کر سبھی درود

میری دعا کو اپنے پروں میں سمیٹ کر
جائے گا آسماں کی طرف آج بھی درود

خوشنودیٔ رسولِ معظمؐ کے واسطے
آلِ رسولِ پاک پہ پڑھیئے ابھی درود

بنیاد ہے درود ہی نعتِ حضورؐ کی
لاریب اُنؐ کی نعت کی ہے شاعری درود

کیوں ہم حصارِ رحمتِ آقاؐ میں لیں نہ سانس
دراصل ہم غلاموں کی ہے زندگی درود

اُنؐ کی حدیثِ پاک سے چنتے رہو علوم
حکمت کے سائباں میں ہے ہر آگہی درود

پہلے فلک سے آئے گا پروانۂ نجات
بھیجوں گا جب حضورؐ پہ مَیں آخری درود

جگنو لحد میں بھی ہیں درود و سلام کے
مرنے کے بعد بھی نہیں بھولا کبھی درود

تصویر احترام کی بن کر کھڑا رہوں
روضے کے سامنے ہو مری خامشی درود

میرا قلم بھی صورتِ توصیفِ مصطفیؐ
لوحِ ادب پہ لکھتا رہے ہر گھڑی درود

رہتا ہے عافیت کے جزیروں میں وہ ریاضؔ
ہر ابتلاء میں پڑھتا ہے جو آدمی درود

ریاض حسین چودھری رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ


کتنا حسین تحفہ ہے ورد درود پاک
قرآن نے سکھایا ہے ورد درود پاک

ہر اک وظیفہ اپنی جگہ ہے خدا قسم
مقبول یہ وظیفہ ہے ورد درود پاک

مفہوم سلمو کا سمجھ میں اب آگیا
اللّٰه نے بتایا ہے ورد درود پاک

دیوانۂ رسول سے سنتا ہوں آج بھی
مبروک یہ طریقہ ہے ورد درود پاک

چل اہتمام کرتے ہیں کچھ آن بان سے
دیدار کا وسیلہ ہے ورد درود پاک

تا عمر اپنے لب پہ سجائے رکھیں سبھی
بخشش کا اک ذریعہ ہے ورد درود پاک

مشکل گھڑی جب آتی ہے فارح پہ دوستو
بے ساختہ یہ کرتا ہے ورد درود پاک

فارح مظفرپوری


*رحمتیں ہونے لگیں نازل مرے گھر بار پر*
*لکھ دیا ہے جب سے میں نے یا نبی دیوار پر*

*واہ کیا رب نے بنایا ہے رخِ سرکار کو*
*حسن کو خود ناز ہے روئے شہِ ابرار پر*

*قتل کرنے کو گئے تھے، ہو گئے شیدا عمر*
*اک نظر جس دم پڑی تھی احمدِ مختار پر*

*ہم کہاں تھے اس کے قابل ہم کہاں اس کے مجاز*
*لطفِ آقا ہے، قدم رکّھا جو اس سنسار پر*

*بادشاہوں کے قدم پر سر وہ جھک سکتا نہیں*
*جو جھکا ہے صاحبِ لولاک کی پیزار پر*

*مصطفیٰ کا کھا کے صدقہ کہتا ہے ہر اک غلام*
*اپنا دامن کیوں پساریں ہم درِ اغیار پر*

بالیقین خاکی یہ نعتِ مصطفی کا فیض ہے
رشک کرتا ہے زمانہ جو مرے افکار پر

شمس تبریز خاکی ظہوری بلگرامی


حمدِ خدائے پاک میں ہدیہ درود کا
اور مصطفے کے سامنے سجدے سجود کا

جب تک رقم تھا اسم رسولِ شہود کا
کاغذ پہ سلسلہ رہا عنبر کا عود کا

لکھنے لگا میں نعت کہ لکنت نہیں ہوئی
صدقہ حسن سے پایا ھے لفظوں میں جود کا

میں راسخُ العقیدہ ہوں مجھ کو یقین ھے
نعلینِ مصطفے تلے اپنے وجود کا

نوکِ سناں پہ کرتا ھے حمدِ رسولِ حق
پابند عشق کب ہوا ظلم و قیود کا

حبِّ علی نبی مری جھولی میں آ گری
زیرِ زبان ورد تھا نامِ ودود کا

کہتا ہوں مصطفے ہیں خدا بھی نبی علی
جب مان رکھ نہ پاؤں خدا کی حدود کا

عامر ھے نعت گوئی عطا ہی سے متصل
ھے عشق کا معاملہ کب عقل و بود کا

سید عامر کاظمی


محفل نبی کی گھر میں سجاتے غلام ہیں
الفت کا جام سب کو پلاتے غلام ہیں

بزمِ رسول پاک سجی ہو اگر کہیں
جا کر کے نعت ان کی سناتے غلام ہیں

گنبد ہرا خدا نے زمیں پر بنا دیا
تسکین جس سے دل کو دلاتے غلام ہیں

دعویٰ نبی سے عشق کا کرتے ہیں سب مگر
وعدہ وفا کا دل سے نبھاتے غلام ہیں

بن مانگے جھولی بھرتے ہیں محبوب کبریا
انکی عطا کو خیر سے کھاتے غلام ہیں

نام رسول پاک کو سنتے ہیں سب مگر
آنکھوں سے اپنی انگلی لگاتے غلام ہیں

تجھ کو خبر ہے اجملی نعت رسول سے
سویا نصیبہ اپنا جگاتے غلام ہیں

غلام غوث اجملی پورنوی


مرا دہن ہے معطر درود پڑھتا ہوں
لحد بھی ہوگی منور درود پڑھتا ہوں

میں روز کھانے سے قبل اس میں چاشنی کے لیے
نبی و آل نبی پر درود پڑھتا ہوں

مدام رحمتیں میرا طواف کرتی ہیں
سبب یہ ہے کہ میں اکثر درود پڑھتا ہوں

انگوٹھے چوم کے رکھتا ہوں اپنی آنکھوں پر
ہمیشہ نام کو سن کر درود پڑھتا ہوں

برائے جامِ ثنا نعت کی صراحی میں
گرا رہا ہوں یہ گوہر درود پڑھتا ہوں

غمِ زمانہ سے یکسر نجات پانے کا
وظیفہ ہو گیا ازبر، درود پڑھتا ہوں

سنا ہے مژدہ ءِ دلکش حدیث کی صورت
کہ وہ پلائیں گے کوثر درود پڑھتا ہوں

بروز حشر کھلے جب کہ نامہ ءِ اعمال
گواہی دیں مہ و اختر درود پڑھتا ہوں

مزہ تو تب ہے قمر جب خدا عمل پوچھے
کہوں اے داورِ محشر درود پڑھتا ہوں

قمر آسی


نبی کی ذات پہ ہے وجہہِ افتخار درود
ہے ذہن و دل کے لئے باعثِ قرار درود
زبانِ خلق پہ جاری ہے بار بار درود
حریمِ قُدس میں پڑھتاہے کردگار درود
ہے کون اُن کے سوا جس پہ پڑھ رہے ہیں سبھی
غریب و مفلس و نادار و تاجدار درود
انہیں کی ذات ہے وجہہِ وجودِ کون و مکاں
ہیں اُن کی شان میں قرآں میں بے شمار درود
خدا نے کھائی ہے قرآن میں قسم جس کی
ہو اُن کی زُلفِ معنبر پہ مشکبار درود
ہے فکر جن کی شفاعت کی ہر گھڑی ان کو
پڑھیں نہ اُن پہ بھی کیوں اُن کے جاں نثار درود
ردائے احمدِ مُرسل سے سرفراز ہیں جو
ہے نعت گوئی میں حسان کا وقار درود
اُنہیں کی مدح و ثنا ہے قصیدہ? بردہ
درود تاج بھی ہے ایک شاہکار درود
سکونِ قلب کا باعث ہے اہلِ دل کے لئے
ہے باغِ زیست کی وہ جانفزا بہار درود
جو صدق دل سے ہیں محبوبِ رب کے شیدائی
وہ بھیجتے ہیں بصد عجز و انکسار درود
ہے ان کا وردِ زباں نام بزمِ عرفان میں
ہے صوفیا کے ہمیشہ گلے کا ہار درود
پہنچتا رہتا ہے ہر لحظہ ان کی خدمت میں
براہ راست یہی جوڑتا ہے تار درود
تقاضا فرض شناسی کا ہے یہی برقیؔ
بصد خلوص کریں ان پہ ہم نثار درود

احمد علی برقیؔ اعظمی


مصطفیٰﷺکی شان و عظمت پر سلام
انﷺکی پیاری پیاری صورت پر سلام

شاہِ بطحا جانِ رحمت ﷺ پر سلام
حاملِ ختمِ نبوت پر سلام

سارے عالم کے لئے رحمت ہیں آپ ﷺ
آپ ﷺ کی پیاری ولادت پر سلام

آپ ﷺ ہیں محبوبِ داور یا نبی ﷺ
آپ ﷺ کی ہر ایک سنت پر سلام

آپ ﷺ کے در کا گدا ادہمؔ بھی ہے
آپ ﷺ کی چشمِ عنایت پر سلام

انصاری عبدالقادر ادہمؔ قادری


صاحبِ خیرالبشر تم پر درود
ماہرِ علم و ہنر تم پر درود

دل بھی تو دیوانہ ہو کر اب مرا
پڑھ رہا شام و سحر تم پر درود

صرف انساں ہی نہیں اس دہر میں
پیش کرتے ہیں شجر تم پر درود

آنکھوں میں روضہ بسا کر آپ کا
روز پڑھتی ہے نظر تم درود

لاکھوں عربوں سال سے واللّٰہ یہ
پڑھ رہے شمش و قمر تم پر درود

رب نے ناظم ہے لکھا قرآن میں
اے مرے نور البشر تم پر درود

ناظم رضا حسینی رچھاوی


پڑھو مسکرا کر درودوں کی ڈالی
لبوں پر سجا کر درودوں کی ڈالی

جب آئے نظر انکا در تو مری جاں
نکلنا سنا کر درودوں ڈالی

اندھیرے کا منہہ کالا کرنے چلا ہوں
لحد میں سجا کر درودوں کی ڈالی

کمی نیکیوں کی اگر ہو گئی تو
رکھیں گے اٹھا کر درودوں کی ڈالی

کرو پیش اے حاجیو تم بھی ہر دم
مدینے میں جا کر درودوں کی ڈالی

او گلشن کے بلبل مرے گھر میں آکر
سنا چہچہا کر درودوں کی ڈالی

توکر مطمئن اپنے دل کو اے قاسم
ہمیشہ سنا کر درودوں کی ڈالی

محمد قاسم


اہلِ وفا و صبر کا نعرہ درود ہے
ان کے ہر اک غلام کا تحفہ درود ہے

اللہ کے فرشتے ہیں اس بات کے گواہ
اللہ نے رسول پہ بھیجا درود ہے

بوبکر اور عمر، علی ، عثمان کے عمل
ان چار ہستیوں کا وظیفہ درود ہے

شیرِ خدا و زہرا و حسنین پر سلام
سرکار مصطفیٰ پہ خدا کا درود ہے

مالک، امام شافعی، حنبل کے ساتھ ساتھ
نعمان کے لبوں نے بھی بھیجا درود ہے

غوث الوری و خواجہِ ہند الولی ہی کیا
ہر پیر ہر ولی نے سکھایا درود ہے

بندہ نواز و حضرتِ شیخِ دکن نے بھی
بھیجا سلام اور سدا بھیجا درود ہے

جنت کی آرزو ہے اگر دل میں مومنو
پڑھتے رہو درود کہ رستہ درود ہے

تحریکِ سنی دعوتِ اسلامی کا شعار
پڑھنا درود اور پڑھانا درود ہے

قربت بروزِ حشر وہ پائے گا اے وقار
شام و سحر نبی پہ جو پڑھتا درود ہے

محمد وقار احمد نوری


چاند سورج کو بھی جو ملی روشنی
انﷺ کی ایسی حکومت پہ لاکھوں سلام
آپ کی ذات سے ہے مری زندگی
آپ کی اس عنایت پہ لاکھوں سلام
ہیں ازل تا ابد مصطفےٰ ﷺ رہنما
ان ﷺ کی کامل نبوت پہ لاکھوں سلام
زندگی تازگی روشنی آپ ﷺ ہیں
مصطفےٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام
مصطفےٰ کی جبیں سے ملی روشنی
ہو جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام

محمد احمد زاہد سانگلہ ہل


مومنوں کی شان ہے ورد درود پاک
مومنو کی جان ہے ورد درودپاک
کرتاہے جوبھی رات ودن ورد درود پاک
کٹتی ہے ہر مصیبت ورد درود پاک
پڑھتا ہے جودرود اپنے حضور پر
ملتی ہے یہ صلہ قربت درود پاک
کرو زباں سے اپنے ورد درود پاک
ہوجائےگا زباں پہ ورد درود پاک
پڑھتا ہے صبح شام جو آقا پہ ہے درود
اس کا مقدر جاگتا ہے یہ ہے درود پاک
کیسے بیاں کروں میں شان درود پاک
اللہ نے بیاں کی ہے شان درود پاک
پڑھتے رہو درود تم آفاق ہرگھڑی
تیرا بلند ہوگا یہ ہے رتبہ درود پاک
تیرا سنوار دےگا مقدر درود پاک

محمد آفاق رضوی


ملے گی قلب کو راحت، درود پڑھتے رہو
خدائے پاک کی سنت، درود پڑھتے رہو

کرو رسول کی مدحت، درود پڑھتے رہو
بناؤ قلب کی زینت، درود پڑھتے رہو

سجاؤ لب پہ درود و سلام کے غنچے
جہاں میں پاؤ گے عزت، درود پڑھتے رہو

ادب خلوص و محبت سے باوضو ہو کر
کرو رسول کی مدحت، درود پڑھتے رہو

درود پاک پڑھو مومنوں محمدﷺ پر
خدائے پاک کی سنت، درود پڑھتے رہو

خدائے پاک کی چاہو اگر رضا مومن
نبی پہ اپنے بکثرت، درود پڑھتے رہو

بڑائی آقاﷺ کی کل کائنات کرتی ہے
خدا بھی کرتا ہے مدحت، درود پڑھتے رہو

بنائی رب نے خدائی تمام جن کیلئے
وہی ہیں مالک خلقت، درود پڑھتے رہو

گزاری عشق محمد میں زندگی جس نے
خدا کی اس پہ ہے رحمت، درود پڑھتے رہو

تمام خلق سلامی کو جن کی جھکتی ہے
نثار جن پہ ہے جنت، درود پڑھتے رہو

نزع کا وقت جو آئے اے ہادئ اکرم
لبوں پہ ہو تری مدحت، درود پڑھتے رہو

ستا رہے ہیں غم ہجر ہم کو پیارے نبی
مدینے کی دو اجازت درود پڑھتے رہو

بروز حشر خدا سے اے شافع محشر
عطا ہو ہم کو شفاعت، درود پڑھتے رہو

مدد کو آئیے مشکل کشا حبیبِ خدا
پریشاں حال ہے امت، درود پڑھتے رہو

ثنائے آقا میں اشعار کہ رہا طارق
قبول ہو یہ عقیدت، درود پڑھتے رہو

محمد طارق قادری۔ مبارک پور


سارے نبیوں کے رہبر ، درود و سلام
تم پہ محبوب داور ، درود و سلام

اپنے ہی نور سے رب نے پیدا کیا
نائب رب اکبر ، درود و سلام

آپ ہی کے لئے سارا عالم بنا
سارے عالم کے سرور ، درود و سلام

آپ ہی کے ہے سر پہ شفاعت کا تاج
شافع ء روز محشر ، درود و سلام

آپ ہی نے پلایا ہے کوثر ہمیں
مالک حوض کوثر ، درود و سلام

زندگی ہے ملی آپ ہی کے لئے
آپ پر جاں سے بڑھکر ، درود و سلام

آرزو ہے کہ سرکار میں بھی پڑھوں
آپ کے در پہ آ کر ، درود و سلام

کنکروں نے گواہی رسالت کی دی
بند مٹھی میں پڑھ کر ، درود و سلام

جو وفادار ہیں آپ کے نام پر
بھیجتے ہیں مچل کر ، درود و سلام

بھیجتے ہیں فرشتے حضور آپ پر
آسماں سے اتر کر ، درود و سلام

آپ پر یا نبی بھیجتے ہی رہے
کربلا کے بہتر (72) ، درود و سلام

خاک در حسن ہے جسم کیواسطے
زندگانی کے زیور ، درود و سلام

ہم غلاموں کا بھی آپ کر لیں قبول
اے زمانے کے یاور ، درود و سلام

حسرتِ جاں ہے آقا پڑھے آپ پر
جسم سے آکے باہر ، درود و سلام

آرزو ہے یہ جاوید جاری رہے
ساری دنیا کے لب پر ، درود و سلام

جاوید صدیقی گونڈوی (لکھنؤ)انڈیا


بے حد و انتہا ہے برکت دروُد کی
اذکار میں سوا ہے شوکت دروُد کی
قُربت کاسلسلہ ہے آقا (ص) کریم سے
کیف و سروُر بانٹے کثرت دروُد کی
اُس دل میں ہو گا روشن اک نوُر کا دیا
جس دل میں بس گئی ہو اُلفت دروُد کی
محسوُس اُن کو ہو گی خوشبوُ حضور کی
جن کو بھی مل گئی ہے نعمت دروُد کی
عصیاں سے دوُرہونگے جو بھی پڑھیں دروُد
گھیرے رہے گی اُن کو رحمت دروُد کی
مقبولیت دعا کی ہوتی ہے اس کے ساتھ
دیکھی ہے یہ بھی اکثر حکمت دروُد کی
آل_نبی(ص) کا صدقہ توفیق ہے ملی
صد شکر ناز کو ہے عادت دروُد کی

صفیہ ناز صابری


بھیجتا ہے خدا درود شریف
تم پہ خیرالوری درود شریف

مانگنے سے سوا ملے گا تجھے
اتنی بہتر دعا درود شریف

جس میں شامل شفاء کامل ہے
ہر مرض کی دوا درود شریف

مانگنے کا ہنر ہے مجھ میں کہاں
میری ہر التجا درود شریف

جب رکھا ہے درود ورد زبان
بن کے چھائی گھٹا درود شریف

تربتِ پاک پر چڑھا نے کو
بن گیا ہے ردا درود شریف

لب پہ جاری رہے ترے احمؔد
جب کہ آئےقضا، درود شریف

شیخ احمؔد نقشبندی اعظمی


نسخۂ کیمیا درود پاک
دافع ہر بلا درود پاک

راحت قلبِ ما درود پاک
روحِ ما کی غذا درود پاک

یہ گنہگار لب، تو پاکیزہ
تو کجا من کجا درود پاک

سب وظائف ہیں مقتدی تیرے
اور تو مقتدا درود پاک

رنگ لائیں دعائیں آدم کی
جب انہوں نے پڑھا درود پاک

کاش! ہو جائے اپنا وردِ لب
دم بدم ، جا بجا درود پاک

خلد ہےاس کی منتظر،جس کو
پڑھ کے آئی قضا درود پاک

وقت رخصت ہومیرےہونٹوں پر
ان کی مدح و ثنا ، درود پاک

واسطےعاصیوں کے،کرتی ہے
باب رحمت کو وا درود پاک

آپ پر خود خدا، فرشتے سب
بھیجتے ہیں سدا درود پاک

تیرگی ختم کرکے، مومن کی
قبر چمکائے گا‌ درود پاک

حشرمیں انکے قرب میں ہوگا
ورد جس کا رہا درود پاک

مضمحل کیوں ہو اےمریضو! تم
پڑھ لو بہر شفا درود پاک

گھیرلیں گر تجھےمصائب تو
پڑھ کے ہر غم بُھلا درود پاک

کاش!فرمالیں وہ قبول حسنین
میں نے جتنا پڑھا درود پاک

*حسنین رضا قادری بلرامپوری*


رب کی ہے ابتدا. . درود شریف
بھیجو بے انتہا. درود شریف

ہے خدا کی رضا. . درود شریف
حق کا ہے فیصلہ. درود شریف

پڑھیے پڑھیے سدا درود شریف
جابجا. ہرلمحہ. درود شریف

ورد صبح و مسا. درود شریف
ہرگھڑی. ہرجگہ. درود شریف

جسکے دل میں بسادرود شریف
کردےپھر آئینہ. درود شریف

ہرمرض کی. شفا درود شریف
دافع ہر بلا. درود شریف

ذکرِ کل اصفیا. درود شریف
پڑھتے ہیں اولیا. درود شریف

رحمتوں کی گھٹا. درود شریف
ابرجود. و. سخا . درود شریف

عشق. کا راستہ. درود.شریف
عاشقوں کی. غذا. درود شریف

جان رحمت. رسولِ اعظم پر
خود خدا. بھیجتادرود شریف

جوپسند ہے. خداے برتر کو
وہ ہے پیاری. صدا. درود شریف

جس میں شامل خدا ملک انساں
ایسا ہے. مشغلہ. درود شریف

جو. دعائیں کراتا ہے. مقبول
کام کا. واسطہ درود شریف

روح کو تازگی. عطا کر دے
روح فرسا. بڑا. درود شریف

مومنوں ہر. گھڑی. اسے پڑھنا
ہاں ہے. حکم خدا درود شریف

آخری دم لبوں. سے. خالد کے
ہو ادا. یاخدا. درود شریف

سیدخالدعبداللہ اشرفی اورنگ آباد مہاراشٹر الہند


*بنا لو اپنی یہ عادت، درودِ پاک پڑھو*
*ٹلے گی سر سے ہر آفت، درودِ پاک پڑھو*

*سند فلاحِ دو عالم کی بَن کے قرآں میں*
*لکھی ہوئی ہے یہ آیت، درودِ پاک پڑھو*

*سند کے ساتھ احادیث کی کتابوں میں*
*رقم ہے اس کی فضیلت، درودِ پاک پڑھو*

*ہو بابِ دِل پہ لگا قُفلِ بد ! تو کُھل جائے*
*لگا کے ضربِ عقیدت، درودِ پاک پڑھو*

*تمہارے سر پہ یقیناً رہے گا ہر لمحہ*
*نبی کا سایۂ رحمت، درودِ پاک پڑھو*

*ملے گی گلشنِ ہستی کے غنچہ و گُل کو*
*اِسی سے رنگت و نکہت، درودِ پاک پڑھو*

*وبا کا خوف، مصائب کا نام مٹتا ہے*
*اِسی عمل کی بدولت، درودِ پاک پڑھو*

*پلٹ کے آئیں گے پھر سے تمہارے اچّھے دِن*
*مگر ہے شرط، بکثرت، درودِ پاک پڑھو*

*میں اپنی نسل کو دے جاؤں گا یہی نُسخہ*
*حسن! بشکلِ نصیحت، درودِ پاک پڑھو*

*حسن بلرامپوری* (ممبئی)


قرطاس پر نہ چھوڑ ! کتابت درود کی
مُہمَل نہ لِکھ ! قلم سے عبارت درود کی

کرتی ہیں مکھیاں بھی تلاوت درود کی
جو شہد میں ھے ساری حلاوت درود کی

قراٰن نے کہا ھے شفا ، کیوں شفا نہ ہو
پھولوں کےاِس عرَق میں ھے حکمت درودکی

صوم وصلوٰة وحج کی ادا کا ھے وقت خاص
جب بھی پڑھو ادا ھے عبادت درود کی

دن ہو کہ رات ، وقتِ کراہت کہ مستحب
صَلوا عَلَیہ ، عام ھے ساعت درود کی

اللہ بھیجتا ھے درو د ، اُن پہ اور مَلَک
اے مومنو ! ھے تم کو ہدایت درود کی

اُس کے بدن کو قبر کی مٹی نہ کھائے گی
جس کے لبوں پہ رہتی ھے کثرت درود کی

کھلتے رہیں گلاب ، درود و سلام کے
لائے گی اُن کو خواب میں نکہت درود کی

اُن پر پڑھوں درود ، میں روضے کے سامنے
یارب ! عطا ہو پھر یہ سعادت درود کی

سیفی ! تمام ہوتی نہیں ھے کوئی نماز
جب تک لگے نہ مہرِ محبت درود کی

سیدشاکرحسین سیفی


کاش اتر جائیں مرے دل پر بھی انوارِ درود
آشکارا ہوں مرے ہونٹوں سے اسرارِ درود

جب اُترتے ہیں زمینِ دل پہ انوارِ درود
تب اُبھرتے ہیں مشامِ جاں سے اشعارِ درود

دل کے گلشن میں جو لگاتے ہیں اشجارِ درود
حوضِ کوثر پر وہی پائیں گے اثمارِ درود

جن کی نسبت سے مجھے معراجِ روحانی ملے
کاش ہو جائیں مجھے حاصل وہ اذکارِ درود

گلشنِ مدحت سے چنتی ہوں میں نعتوں کے گلاب
یوں معطر سا مجھے رکھتے ہیں اشعارِ درود

جس کے پڑھنے سے نہیں ہوتی دعا رد کوئی مری
لب پہ رکھا ہے وہی ہر آن سردارِ درود

لب فروزاں ، روح رخشاں ، سینہ روشن دل جواں
ناز ہر شے کر رہی ہے آج اظہارِ درود

سمیعہ ناز


یہ ہم سے پوچھ لے کوئی ہے کیا درود شریف
ہے وجہ دافع رنج و بلا درود شریف

مرادیں اس کی ہوں پوری الٰہی محفل میں
ترے حبیب پہ جس نے پڑھا درود شریف

نشان ہوتا ہے جیسے ہر اک جماعت کا
ہے عاشقوں کی بھی پہچان کیا؟ درود شریف

محال اس کی اجابت تلک رسائی ہے
دعا وہ جس میں پڑھا نہ گیا درود شریف

کلامِ رب میں یصَلونَ ، سَلمو بھی ہے
ادب سے پڑھتے رہو سب سدا درود شریف

اسی کے دم سے ہے پرنور انجمن دل کی
چراغ خانہ ء دل کی ضیا درود شریف

کبھی وہ شخص بلاؤں میں گھر نہیں سکتا
شغف جو رکھتا ہے صبح و مسا درود شریف

مرا عقیدہ ہے ایمان ہے یقیں ہے یہ
ہر اک دعا سے ہے بڑھکر دعا درود شریف

خدا عطا کرے عرفان مجھ کو یہ توفیق
ہو شغل وقتِ نزع بھی مرا درود شریف

عرفان نعمانی جاہدی باسنی ناگور راجستھان


ہر اک مرض کی ہے بیشک دوا درود شریف
ہے سب سے اچھا یہ تحفہ ملا درود شریف

بنایا جس نے بھی ہے مشغلہ درود شریف
مٹائے تیرگی اس کی سدا درود شریف

ہے جن کے صدقے بنا ذرہ ذرہ عالم کا
انہیں پہ بھیجتا خود بھی خدا درود شریف

نصیبہ اپنا ہے سویا جگا لیا اُس نے
رسولِ پاک پہ جس نے پڑھا درود شریف

اگر جو چاہیے نیکی کی ٹوکری تم کو
*وظیفہ اپنا بناؤ سدا درود شریف*

قبول کرتا ہے مولیٰ وہی دعا جس میں
ہے جاتا اوّل و آخر پڑھا درود شریف

درود پاک کی عظمت تو دیکھیے لوگو!
قریبِ سرورِ دیں لے گیا درود شریف

ہوا عروج پہ اس کی ستارہ قسمت کا
نبی کے عشق میں جس نے پڑھا درود شریف

پڑھو درود شہ انبیاء پہ خوب ہر دم
کرے گی قبر میں بیشک ضیا درود شریف

اے *سعد* صاف رکھو دل کو باوضو ہوکر
پڑھو حضور پہ صبح و مسا درود شریف

*محمد رضا عالم سعد سہرسا بہار*


ملا ہے غم میں سہارا درود پڑھنے سے
بنا ہے کام ہمارا درود پڑھنے سے

وبا کا دور کہ موسم ہو سخت پَت جَھڑ کا
خوشی سے ہوگا گزارا درود پڑھنے سے

ہمارے دَفترِ دل میں بھی چَھپ کے آتا ہے
عطا کا تازہ شُمارہ درود پڑھنے سے

اے نجدیو! ہمیں تم اِس سے روکتے کیوں ہو
بگڑتا کیا ہے تمہارا درود پڑھنے سے

ہمارے دل کے سمندر میں موج کی صورت
اُبال خوشیوں نے مارا درود پڑھنے سے

یقیں ہے خواب میں اک رات روئے احمد کا
ضرور ہوگا نظارا درود پڑھنے سے

نہ پوچھے جانے کے لائق تھے ہم تو دنیا میں
ہوئے جہاں کو گوارا درود پڑھنے سے

یہ بات سچ ہے کہ انسان ہونے لگتا ہے
ہراک نگاہ میں پیارا درود پڑھنے سے

دکھاؤ روئے زمیں پر اگر ہے کوئی تو
ہوا ہو جس کا خسارا درود پڑھنے سے

رسولِ پاک کی رحمت نے مجرموں کی طرف
کیا لطیف اِشارہ درود پڑھنے سے

جو کشتی ڈوبنے والی تھی موجِ طُوفاں میں
اُسے ملا ہے کنارا درود پڑھنے سے

زہے نصیب اے *اشرفؔ* تِرے مُقدّر کا
چمک اٹھا ہے ستارہ درود پڑھنے سے

اشرفؔ رضا سبطینی


شاہ کارِ خالقی کو ہے سلام
یعنی نبیوں کے نبی کو ہے سلام

جس کا صدقہ ہے یہ حسنِ کائنات
رب کی اس کاری گری کو ہے سلام

بے کس و مجبور کا حامی ہے جو
اس کی بندہ پروری کو ہے سلام

جھک کے ملنا ہے جسے ہر ایک سے
اس کی طرزِ عاجزی کو ہے سلام

مالک کل اور چٹائی ہے سریر
مصطفیٰ کی سادگی کو ہے سلام

بھیج کر ان پر درودیں پھر کہو
فاطمہ کی پردگی کو ہے سلام

ساتھ جو کربل میں تھے شبیر کے
ہر کسی کی تشنگی کو ہے سلام

سارے اصحابِ شہِ دیں پر درود
سارے عشاقِ نبی کو ہے سلام

نظم کرتا ہے جو ان کی نعتِ پاک
اس بشر کی شاعری کو ہے سلام

مصطفیٰ تو مصطفیٰ مفتاح لکھ
ان کے ہر اک امتی کو ہے سلام

مفتاح الحسن مفتاح چشتی


لب پر یہی صبح مسا صل علی صل علی
صل علی صل علی صل علی صلی علی
آدم پڑھیں یوسف پڑھیں عیسی کہیں موسی کہیں
رب نے کہا سب نے کہا صل علی صل علی
حجرو شجر جن وبشر کوہ و دمن مرغ چمن
ارض و سما کی ھے صدا صل علی صل علی
تاروں کی لو مہ کی چمک آب رواں یا ھو دھنک
سب کا یہی ھے مدعا صل علی صل علی
کیسے کہیں کچھ اور ھم کیسے پڑھیں کچھ اور ھم
یہ ھی پڑھا یہ ھی سنا صل علی صل علی
سب دیکھ لو قرآن میں ھے کہہ رھا یہ ھی خدا
پڑھتے چلو صل علی صلی علی صل علی
ھے اک یہی دونوں جہاں کی روشنی کا راستہ
دم دم یہی تو پڑھتا جا صل علی صل علی
ھے آروز اب جی یہی جاٶں مدینے ایکدن
کرتے ھوٸے صل علی صلی علی صل علی
دنیا کے ہر دکھ درد گا عالم یہی درمان ھے
یامصطفی یا مجتبی صل علی صلی علی

کلام ۔ ساٸیں محمد محبوب عالم چشتی رضوی


نبی سے گر ہے محبت درود پاک پڑھو
ملے گی قلب کو راحت درود پاک پڑھو

خداۓپاک یہ فرما رہا ہے قرآں میں
ادا کرو مری سنت درود پاک پڑھو

اے عاصیو! اے گنہ گارو! اے سیہ کارو!
اگر ہے خواہش جنت درود پاک پڑھو

غم و الم کی ہوا چل رہی ہو جب ہر سو
سکوں کی چاہیے دولت درود پاک پڑھو

خدا کی رحمتیں ہوں گی سروں پہ سایہ فگن
نبی کریں گے شفا عت درود پاک پڑھو

خدا کے ساتھ فرشتوں کا بھی وظیفہ ہے
کرو انہیں کی اطاعت درود پاک پڑھو

تمہاری سمت رکھے گی مسلسل اپنا رخ
مدینے والے کی رحمت درود پاک پڑھو

شبِ الم کو بدلنا ہے روزِ فرحت سے
تو نورِ حق پہ بکثرت درود پاک پڑھو

رسول پاک کی قربت ہے گر عزیز تمھیں
کرو نفیس عبادت درود پاک پڑھو

از ۔محمد نفیس مصباحی بلرام پوری


خدا بھیجتا ہے جب، ان پر درود
پڑھے کیوں نہ شہ کا ثنا گر درود

شہِ دیں کی قربت بھی مل جائے گی
پڑھو ان پہ بس تم برابر درود

ٹلا سر سے طوفانِ رنج و الم
پڑھا میں نے جس وقت شہ پر درود

جو تلوار سے تیز ہے پل صراط
میں ہو جاؤں گا پار پڑھ کر درود

وہ سب کچھ تمہیں بخش دے گا خدا
جو مانگو گے لب پر سجا کر درود

لحد میں تجھے روشنی چاہیئے؟
حبیب خدا پہ پڑھا کر درود

وظائف سنو سیف جتنے بھی ہیں
سبھی سے ہے ان سب میں برتر درود

محمد سیف رضا قادری الہ آباد


تمام ہو یہ تمنا درود پڑھتے ہوئے
میں جاؤں شہرِ مدینہ درود پڑھتے ہوئے

خیال و فکر میں وہ سبز گنبد آقا
رہے ہمیشہ ہویدا درود پڑھتے ہوئے

کہیں بھی، کوئی مصیبت جو گھیر لے تجھ کو!
نجات یافتہ ہونا درود پڑھتے ہوئے

زباں کو اہل جہاں کی محبتوں سے بچا
بناکے اپنا وظیفہ درود پڑھتے ہوئے

عظیم تر تجھے خوشیاں نصیب ہوں گی مگر
جگا تو سویا نصیبہ درود پڑھتے ہوئے

ہمارا اسم محمدﷺ ہی اسم اعظم ہے
اسی سے کام بنے گا درود پڑھتے ہوئے

قبول توبۂ آدم کا کیا وسیلہ ہے
قبول ہوگئ توبہ درود پڑھتے ہوئے

بھنور میں کب سے پھنسی تھی یہ کشتی امت
عطا ہوا ہے کنارہ درود پڑھتے ہوئے

اگر دھڑکنا تجھے ہے تو خوب دھڑکا کر!
مگر اے مرکزی حصہ درود پڑھتے ہوئے

کہاں نصیب سبھی کو ہے عشق پاک نبی
بڑھا اے قلب جلاپا درود پڑھتے ہوئے

وصال یار بھی حاصل کبھی ہو مجھ کو بھی
مگر ہو جب تو خدارا درود پڑھتے ہوئے

ہمیں نہیں ہے یہاں کوئی بھی خَطَر پیارے!
کریں گے پار یہ دریا درود پڑھتے ہوئے

بچیں جہاں کے شیاطیں سے آصف خستہ
سفر، حضر میں ہمیشہ درود پڑھتے ہوئے

محمد آصف نوری منظری


اپنی حیات کا تو وظیفہ بنا درود
قربِ رسول پاک کا ہے راستہ درود

سایہ فگن انہیں کے سروں پر ہیں رحمتیں
پڑھتے ہیں جو حضور پہ صبح و مسا درود

ہر اٰن ہے وہی تو خدا کی امان میں
ہر اٰن جو حضور پہ پڑھتا رہا درود

وہ لوگ سوۓ خلد بصد شان جائیں گے
پڑھتے ہیں اپ پر جو حبیب خدا درود

اس کی دعا ضرور کرے گا خدا قبول
جس نے دعا سے پہلے نبی پر پڑھا درود

دیکھے گا خواب میں وہ کبھی جلوۂ رسول
سوتا ہے جو رسول پہ پڑھتا ہوا درود

نام رسولِ پاک شرافت جہاں سُنا
میں نے بصد خلوص وہیں پر پڑھا درود

««««شرافت حسین بلرامپوری»»»»


مشکل سے دور رہنے کو پل پل درود پڑھ
مشکل کشا حضور پہ جل تھل درود پڑھ

دنیا سے بچ کے رہنا ہے ہمدم اگر تجھے
محبوب کبریا پہ مسلسل درود پڑھ

تجھ کو سکون قلب ملے گا ضرور بس
“یادوں میں ان کی ڈوب کے ہر پل درود پڑھ”

جب نام ہو لبوں پہ محمد , مٹھاس سے
میرا بھی منہ بھرے , دل بیکل درود پڑھ

آقا سے اذن حاضری مل جائے کاش پھر
طیبہ سفر کے واسطے آ چل درود پڑھ

معصوم امتی ہے بنا رب کا ہے کرم
دن رات شکر کر ادا پل پل درود پڑھ

انعام الحق معصوم صابری


شاہ بطحاء کی عنایت پر سلام۔
ان کے در کی نور و نکہت پر سلام۔

جن کے در پہ پلتے ہیں شاہ و گدا۔
نور والی پیاری تربت پر سلام۔

تاجدار انبیاء خیر البشر۔
نوری صورت پاک طینت پر سلام۔

آپ ہی ہیں میرے رہبر بالیقین۔
پیاری پیاری اعلی حکمت پر سلام۔

رحمت عالم کے صدقے میں جہاں۔
آمد شاہ ہدایت پر سلام۔

روز محشر بخشواینگے ہمیں۔
ان کی اس اعلیٰ ضیافت پر سلام۔

درپہ پلتا ہے نظامی آپ کے۔
آپ کی پیاری عنایت پر سلام۔

علی احمد نظامی ایس نگری یوپی انڈیا


نبی، رسول، پیمبر، دُرود پڑھتے ہیں
مِنار و مسجد و منبر، دُرود پڑھتے ہیں

امیر، شاہ، تونگر، دُرود پڑھتے ہیں
غلام، نوکر و چاکر، دُرود پڑھتے ہیں

بہار، سرو سمن، گل، شگوفے، مشک، کلی
گلاب، چمپا و عنبر، دُرود پڑھتے ہیں

پپیہا، بلبل و قمری، چکور، طوطی، مور
عقاب، مرغ، کبوتر، درود پڑھتے ہیں

درودِ پاک ترانہ ہے باغِ جنت کا
فرشتے، خلد کے اندر، دُرود پڑھتے ہیں

حسن، حسین گلِ باغِ فاطمہ زہرا
حضور فاتحِ خیبر ، دُرود پڑھتے ہیں

رسولِ پاک کے اصحاب، اولیا، اقطاب
تمام ، عالم و رہبر، دُرود پڑھتے ہیں

فلک پہ شمس و قمر اور نجوم، سیارے
زمیں پہ کنکر و پتھر، دُرود پڑھتے ہیں

ردیف، قافیہ، اشعار، خود بخود، تنویر،
ادب سے، اپنے نبی پر، دُرود پڑھتے ہیں

✍ محمد تنویر رضا صدیقی ردولی شریف


راحتِ قلب وجاں جسکا پیارا ہے نام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام
جبراٸیلِ امیں جنکے در کے غلام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام

جس کو صلو علیہِ خدا بھی کہے
جسکو داٸم سلامُٗ کےتحفے ملے
ہیں جو خیر البشر ، ہیں جو خیرالانام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام

ماہتابِ نبوت شہِ دوسرا
مرکزِ نورِ ایمان خیرالوری’
انبیا و رسل کے بھی ہیں جو امام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام

جو ہیں عرشِ علی’ پر بلاٸے گٸے
جنکی خاطر دوعالم بناٸے گٸے
جنکے صدقے رہیں نہ مصاٸب آلام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام

جنکی تعظیم کو آٸیں چل کے شجر
گویا ہو کے گواہی دیں واللہ حجر
جنکی آمد پہ روشن ہوٸے فرش و بام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام

ہے مطیعِ محمدﷺ ، مطیعِ خدا
یعنی مقصودِ حق، مصطفے’ کی رضا
جنکی گفتار ہے عین ربی کلام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام

جنکی نسبت زمانے میں سب سے وری’
جنکی رحمت سے سب کا بھلا ہی بھلا
جن کا جاری ہے فیضِ نظر صبح و شام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام

ہے دعاٸے نقی آخری ہو گھڑی
آٸیں سرکار کرنے کو چارہ گری
لب پہ جاری ہو کلمہِ خیرالانام
اس نبیِ معظم پہ ہر دم سلام

سلامِ عقیدت از:
سید سبطِ حسنین نقی