Skip to main content
LyricsNaat Lyricsسلامنعت

ترانۂ درود و سلام

By April 16, 2019No Comments

بموقع یوم درود و سلام
٢٠ اپریل ٢٠١٩ع
بروز سنیچر
تاریخ ولادت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم

درود سلام پر میری دونوں نظمیں ٢٥، ٢٥ اشعار پر مشتمل ہیں اس کے دو سبب ہیں

(1)
حدائق بخشش کی پہلی نعت پاک..
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
اس میں ٢٥ اشعار ہیں
اسکے بعد اِسی زمین میں حضور غوث پاک کی تین منقبتیں
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا
یکے بعد دیگرے ٢٥، ٢٥ اشعار پر مشتمل ہیں،
دوسرے حصے میں…
طلب کا منہ تو کس قابل ہے یا غوث
اِس زمین میں چار منقبتیں ہیں پہلی تین ٢٥، ٢٥ اور چوتھی ٢٤ اشعار پر مشتمل ہے مگر میری عقیدت کہتی ہے اِس میں بھی ٢٥ رہے ہونگے …
(2)
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ سیدی امام احمد رضا کی تاریخ وصال صفر کی ٢٥ ہے…
اِن دونوں نسبتوں کو ملحوظ رکھتے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں…
فریدی مصباحی

شانِ لوح و قلم درود و سلام
جانِ عرش و اِرم درود و سلام
حکمِ پروردگار صلُّوا علیہ
ہم پڑھیں دم بدم درود و سلام
بالیقیں سب سے افضل و اعلیٰ
ذکرِ شاہِ امم درود و سلام
بھیجتا ہے نبی پہ خود مولی
ایسا ہے محتشم درود و سلام
تاکہ دھڑکن بھی اُن کا نام جپے
دل پہ کر لو رقم درود و سلام
جسمیں دیوانۂ رسول کو چین
عشق کا وہ حرم درود و سلام
یہ وظیفہ ہے قوّتِ مومن
ہونےدیگا نہ خَم درود و سلام
یاد کر کے شہِ دو عالم کو
پڑھیےباچشمِ نم درود و سلام
زخمِ ہستی کا نسخۂ اکسیر
دافعِ رنج و غم درود و سلام
گلشنِ جاں میں راحتوں کی بہار
شافی ہر اَلَم ، درود و سلام
دل غنی اِس کے پڑھنے والوں کا
سارا جاہ و حشَم درود و سلام
گر ہے صَلُّوا تو سَلِّمُوا بھی ہے
یعنی پڑھیے بَہَم درود و سلام
وہ دعا مستَجاب ہوتی ہے
جسمیں ہوتاہےضَم درود و سلام
طاعتیں سب اِسی سے ہیں مقبول
طاعتوں میں اَتَم درود و سلام
بلکہ یہ ہے مُتَمِّمُ الاعمال
ہرعمل میں اہَم درود و سلام
قبر میں حشر میں یہ رکھےگا
عاصیوں کا بَھرَم درود و سلام
مشکلوں کےسبھی اندھیروں میں
ہے ضیا کرم درود و سلام
آفتابِ فروغِ عِزّووقار
ماہتابِ نِعَم درود و سلام
جس نے تھاما بلند بَخت ہوا
عظمتوں کا عَلَم درود و سلام
ہر جھلک میں نیا اجالا ہے
نَو بہ نَو تازہ دَم درود و سلام
ہر طرف ہیں تجلیاں اِس کی
کیاعَرَب، کیاعَجَم درود و سلام
نجدیت لاکھ کوششیں کر لے
ہوسکے گا نہ کم درود و سلام
نغمۂ حق ، صدا لاہُوتی
تحفۂ محترم درود و سلام
کون سا رنج ہے جو دور نہ ہو
کیجیےپڑھ کے دَم درود و سلام
ہے فریدی یہ عاشقوں کی ادا
ہر سفر، ہر قدم درود و سلام