New Kalam
اے اشرف زمانہ
کیا کچھ نہیں مِلتا ہے بھلا‘ آپﷺ کے در سے
گفتگو کر نور کی نورِ خدا کی بات کر
میرے خدا کی رضا ہیں علی کے لخت جگر
حیدری” خون ہے اور “قادری” شَجرہ تیرا
ہمیشہ ذکرِ حسین زیرِ زباں رہے گا
نہ گُل کی تمنا نہ شوقِ چمن ہے​
تمہارے دَر پہ پہنچنے کو بے قرار ہیں لوگ
زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا
شانِ دخترانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کس سے کہوں میں حالِ پریشاں مرے حضورﷺ
یا نبی ﷺ نسخہء تسخیر کو میں جان گیا
طیبہ کی آرزو میں میرا دل اداس ہے
درِ اقدس سے رحمت بانٹتے خیرُ البَشَر نکلے
تجلیات کا محور ہیں زہرا و صدیق
تم سے جو گریزاں ہے فرزانہ وہ دیوانہ
زمینِ ہند پہ نورِ حجاز ، بندہ نواز
یا سیدی یا رسول اللہ خذ بیدی
تم سے موسوم ہے یوں رحمت باری ساری
مملکتِ نعت کے فرماں روا، امام احمد رضا
قبالۂ بخشش – مداح الحبیب علامہ جمیل الرحمن جمیلؔ قادری
ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن
تضمین بر قصیدۂ درودیہ
حضورتاج الشریعہ کے کلام میں عشق و عرفان کی موجیں
جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں
بوالہوس سن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں
حضورتاج الشریعہ کی شاعری میں احادیث نبویہ کی ضیاء پاشی
تاج الشریعہ کے کلام میں مدحت رسول کی جولانیت
ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے
سفینہء بخشش: ایک بیش بہا ادبی و شعری مرقّع
Next
Prev