Skip to main content
نعت

یا خدا ہر دم نگہ میں ان کا کاشانہ رہے

By September 7, 2021No Comments

یا خدا ہر دم نگہ میں ان کا کاشانہ رہے
دونوں عالم میں خیال روئے جانانہ رہے

اے عرب کے چاند تیرے ذرے کا ذرہ ہوں میں
تا ابد پر نور میرے دل کا کاشانہ رہے

کیوں معطر ہو نہ خوشبو سے دوعا لم کا دماغ
پنجۂ قدرت ترے گیسو کا جب شانہ رہے

جس مکاں کی اپنی پائے پاک سے عزت بڑھائیں
کیوں نہ سب امراض کا وہ گھر شفا خانہ رہے

زندگی میں بعد مردن انکے نام پاک سے
یا خدا آباد میرے دل کا ویرانہ ہے

عین ایماں ہے یہی اور ہے ہر اک مومن پہ فرض
ان کے نام پاک کا دنیا میں مستانہ رہے

در دلب مصرع ہو یہ جب سیر ہوں پیاسے ترے
ساقی ِکو ثر ترا آباد میخانہ رہے

مست ان کے جھومتے ہیں جوش میں کہتے ہوئے
ساقی ِکو ثر ترا آباد میخانہ رہے

کیوں جلائے نارو دوزخ اس کو اے شمعِ ہدیٰ
جو فدا دنیا میں تم پر مثل پروانہ رہے

محو نظارہ رہیں تا حشر آنکھیں یا خدا
اور دلِ وحشی رُخ و گیسو کا دیوانہ رہے

کر بلند ایسا علم اسلام کا اے شاہ دیں
مسجدیں آباد ہوں ویران بُت خانہ رہے

ہے جمیل قادری کےوردلب نعت نبی
بعد مردن بھی لحد میں ذکر جانا نہ رہے

قبالۂ بخشش