Skip to main content
نعت

ہم غریبوں کا آسرا تم ہو

By August 17, 2021No Comments

ہم غریبوں کا آسرا تم ہو
بزم کونین کی ضیا تم ہو


کون ہے میری زندگی کی بہار
راز پہناں سے آشنا تم ہو


ہوگیا نازش دو عالم وہ
جس کو کہہ دو مِرے دوا تم ہو


اس طرف بھی ذرا نگاہ کرم
درد دل کی مِرے دوا تم ہو


میرے دل کو ہو خوف رہزن کیوں
جب کہ خود میرے رہنما تم ہو


عکس ہے تیرا شیشۂ دل میں
مرے دل سے کہاں جدا تم ہو


ہم غریبوں کی جھولیاں بھر دو
بحر جود و سخا شہا تم ہو


پھر بھلا خوف موج طوفاں کیا
میری کشتی کے ناخدا تم ہو


بختِ اخؔتر بھی جگمگا اُٹھا
ملتفت جب سے باخدا تم ہو!

Was this article helpful?
YesNo