Skip to main content
نعت

ہر شے میں ہے نور رُخ تابان محمد

By September 7, 2021No Comments

ہر شے میں ہے نور رُخ تابان محمد
ہر پھول میں خوشبوئے گلستان محمد

اللہ ے محبوب کو بے مثل بنایا
ممکن ہی نہیں ہو کوئی ہم شان محمد

مخلوق کو معلوم ہوکیا ان کی حقیقت
رب عزول جانتا ہے شان محمد

آسکتا ہے کب ہم سے گنواروں کو ادب وہ
جیسا کہ ادب کرتے تھے یاران محمد

سینہ ہے وہی جس میں نبی کی ہو محبت
ہے آنکھ وہی جو کہ ہے جویان محمد

وہ دل ہی نہیں جو نہ جھکے سوئے مدینہ
وہ سر ہی نہیں جو نہ ہو قربان محمد

اعدا کی شقاوت کہ ہوئے آپ کے منکر
اور سنگ وشجر تابع فرمان محمد

محبوب خدا حاکم مخلوق الہٰی
مخلوق خدا تابع فرمان محمد

تفسیر نے لَوْلَاکَ لَمَا کی یہ پکارا
وہ کون ہے جس پر نہیں احسان محمد

رہتا ہے فلک جس جس کے طوافوں میں شب و روز
واللہ وہ ہے گنبد ایوان محمد

عشاق سمجھتے ہیں اسے گلشن جنت
کہتے ہیں جسے لوگ بیابان محمد

چلتا ہے جوزا ئر تو یہ کہتے ہیں فرشتے
دیکھو وہ چلا آتا ہے مہمان محمد

شیروں پہ شرف رکھتے ہیں دربار کے کتے
شاہوں سے بھی بڑھ کرہیں گدایان محمد

لاشہ مرا طیبہ کے بیاباں میں پڑا ہو
اور روح بنے بلبل بستان محمد

کیا پوچھتے ہو مجھ سے نکیرین لحد میں
لو دیکھ لو دل چیر کے ارمان محمد

ٹکراؤں گا سر تختۂ مرقد سے لحد میں
یاد آئے گا جس وقت بیابان محمد

کیوں ان کے غلاموں کو ہو ڈر حشرو لحد کا
ہاتھوں میں ہیں تھامے ہوئے دامان محمد

قیدی کو چھڑا دیتا ہے اک ان کا اشارہ
مجرم کو چھپا لیتے ہیں دامان محمد

یارب یہ تمنا ہے کہ تاحشر کہیں پر
چھوٹے نہ مرے ہاتھ سے دامان محمد

پہلے ہی خدا حکم قیامت میں یہ دے گا
جنت میں چلے جائیں گدا یان محمد

ہم جائیں گے فردوس میں رضواں سے یہ کہہ کر
روکو نہ ہمیں ہم ہیں غلامان محمد

توصیف و ثنا لکھے جمیل رضوی کیا
جب صانع مطلق ہے ثنا خوان محمد

قبالۂ بخشش