Skip to main content

ہر شب مجھے ہو جاتا ہے دیدارِ مدینہ
ہر روز میں پڑھ لیتا ہوں اخبارِ مدینہ

کیا دلکش و دلبر ہے گلی کوچوں کا منظر
کیا جنّتِ ارضی ہے چمن زارِ مدینہ

ہاتھوں میں لئے پھول، صبا رقص کرے گی
جنت میں ذرا چھیڑ دو اذکارِ مدینہ

وہ آبِ خنک، ٹھنڈی کھجوریں، لبِ تشنہ
کیا خوب سے بھی خوب ہے افطارِ مدینہ

تصویرِ ادب بن کے مواجھے میں کھڑے ہیں
قسمت کے سکندر ہیں طلب گارِ مدینہ

کیسے میں دکھا پاؤں گا طیبہ کے مناظر
ممکن ہی نہیں لفظوں میں اظہارِ مدینہ

ہاں ہاں میں ہوں دیوانہ نبی جی ﷺ کا ازل سے
زنجیرِ ادب میری ہے گلزارِ مدینہ

تخلیقِ خدا، جن کا بدل کوئی نہیں ہے
بے مثل بشر ہیں مرے سرکارِﷺ مدینہ

محدود ہے کب رحمتِ آقائے مکرّمﷺ
کونین کے سردارﷺ ہیں سردارِ مدینہﷺ

ہر ساعتِ ویراں کو عطا ہوتی ہے شبنم
سرسبز، الٰہی، رہے گلزارِ مدینہ

شاید نہیں معلوم رقیبانِ سحر کو
لجپال ہمارے بھی ہیں دلدارِ مدینہﷺ

سوچوں کے درِ شوق پہ دستک دو ہواؤ!
ہر موڑ پہ آجائے گا بازارِ مدینہ

یارب! ہوں عطا اور تسلسل سے عطا ہوں
تہذیبِ پراگندہ کو اقدارِ مدینہ

سب مردہ ضمیروں کو جلا ڈالوں تو اچھا
دیتے ہیں سبق عشق کا احرارِ مدینہ

ہر شخص بھروسے کے بھی قابل نہیں ہوتا
کھلتے ہیں غلاموں ہی پہ اسرارِ مدینہ

سورج سوا نیزے پہ بڑے شوق سے چمکے
محشر میں مجھے کافی ہے دستارِ مدینہ

مَیں اُس کے کسی طاق میں رکھ آیا ہوں آنکھیں
ہمراز ہے، دمساز ہے دیوارِ مدینہ

اِمشب بھی ریاضؔ عالمِ رویا میں یقینا
برسیں گے مری آنکھ پہ انوارِ مدینہ

کلام : ریاض حسین چودھری رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ

https://www.facebook.com/NaatAcademyIN/

Https://naatacademy.com

Https://instagram.com/naatacademy