Skip to main content
منقبت

کیوں ہو بھلا بُلند نہ رُتبہ حُسین کا

By April 11, 2019No Comments

کیوں ہو بھلا بُلند نہ رُتبہ حُسین کا
مُختارِ ہر جہان ہے نانا حُسین کا

ہوتے رہے ہیں دعوے نبوت کے گاہ گاہ
لیکن نہ کر سکا کوئی دعویٰ حُسین کا

بدلی ہے ہر زمانے میں شاہوں کی سلطنت
لیکن رَواں دَواں رہا سِکّہ حُسین کا

اصغر ہو یا کہ اکبر و عابد کی ذات ہو
سارا حَسِین ہے ہر اِک بیٹا حُسین کا

والد ہے کُلِ ایماں تو مادر ہے فاطمہ
عالی مَنَش ازل سے ہے شجرہ حُسین کا

یہ بھی تو وجہِ فخر ہے شبّیر کے لیے
ہے پالتا رسول کو دادا حُسین کا

اے مُنکرِ حُسین! لے ناخن تُو ہوش کے
کعبہ حُسین کا ہے، مدینہ حُسین کا

پانی بھریں فقیر و قلندر بذوق و شوق
ہر صاحبِ کمال ہے منگتا حُسین کا

اعزاز پا رہا ہے جو حَسنی سا کم ہنر
سچ پوچھیے تو سب ہے یہ صدقہ حُسین کا

سید محمد حسنین الثقلین
???? ????ℯ??
www.NaatAcademy.com
#NaatAcademy #OwaisRazvi