Skip to main content
نعت

کچھ اوجِ بارگاہ مدینہ کروں رقم

By August 21, 2021No Comments

قصیدہ سراپا رسول اکرمﷺ

کچھ اوجِ بارگاہ مدینہ کروں رقم
اے حور شاخ طوبیٰ سے لانا ذرا قلم


اللہ کس قدر ہے یہ دربار محتشمﷺ
بے اذن جبرئیل بھی رکھتے نہیں قدم


کوئی عجب نہیں ہے کہ ہو روکش ارم
محبوب کا حرم ہے یہ محبوب کا حرم


آنکھیں نہیں، بچھے ہیں یہاں اہلِ دِل کے دل
رکھیں قدم ادب سے سلاطین ذی حَشَم


زاہد حریم کعبہ کی تسلیم حُرمتیں
لیکن رسولِ پاکﷺ سے منسوب وہ حرم


چھایا ہوا فضائے مدینہ یہ ابر ہے
برسے گا مے کشوں کے لئے لُکّۂ کرم


میری نظر میں صرف یہی وہ مقام ہے
ملتے ہیں جس مقام سے دنیا و دیں بہم


جنّ و بشر کجا، ہیں ملائک نیاز مند
ہر اک بقدرِ ظرف ہے معمورۂ نِعَم


اس آستاں کا فیض ہے ہر ذی نفس پہ عام
اے دل تجھے کہاں، ابھی اندازۂ کرم


اس سرزمیں سے عرشِ بریں کو ہیں نسبتیں
اس سرزمیں کا وادئ ایمن پہ ہے قدم


یہ آستاں ہے قبلہ نما و خدا نما
یہ آستاں ہے کعبۂ ایماں کا مستلم


یہ آستاں ہے باعثِ تخلیق کائنات
مربوط اس آستاں سے ہے ماوشما کا دم


شاہانِ کجکلاہ، گدایانِ بارگاہ
ہیں ان کے خانہ زاد سلاطین زی حشم


دونوں جہاں کے ہیں وہی مخدوم و مقتدیٰ
دونوں جہاں انہیں کے ہیں محکوم و محکم


میں کیا کہ جبرئیل جو مدح و ثنا کریں
واللہ اُس تمام سے ہیں افضل و اتم


بلکہ تمام دفترِ اوراقِ کائنات
اس کی ثنا میں ایسے جیسے کہ یم سے نم


القصہ دو جہاں میں ہیں مخصوص آپ سے
وہ رفعتیں کہ جن کا نہیں کوئی ہم قدم


موجیں سی اٹھ رہی ہیں سرور و نشاط کی
لہریں سے لے رہا ہے دلِ بے نیازِ غم


توفیق خیر مجھ کو جو ربِ قدیر دے
مضموں ہو اُن کے حسنِ سراپا کا مرتسم


تصویر ہے جمال و جلالِ الہٰ کی
یعنی وہ رخ ہے آئینۂ جلوۂ قِدَم


اللہ ان عذاروں کی جلوہ طرازیاں
گوہا ہیں ایک برج میں شمس و قمر بہم


عرشِ بریں پہ پہنچوں اگر سر کا نام لوں
چھیڑوں جو ذکر پا تو سرِ سروراں ہو خم


حیرت میں ہوں کہ گوہر دنداں کو کیا کہوں
کہہ دوں جو کہکشاں کو دُرَر ہائے منتظم


سینہ ہے طور سینا تو دل مرکزِ جمال
لب مصدرِ فیوض، دہن منبع حِکَم


تبیان ہو جو اُن کے بیان و زبان کا
بے جا نہیں، عرب کو میں کہہ دوں اگر عجم


جیسے سواد بحر پہ کرنیں ہوں موجزن
یوں ہیں جبیں پہ جلوہ فگن موجۂ کرم


ترساں ہیں گیر و ترسا، عجب رعب و داب ہے
لرزاں ہیں ان کے نام سے بت خانوں میں صنم


تسنیم و سلسبیل کا صدقہ مجھے بھی دو
کوثر کے شاہ، ساقئی میخانۂ حَرَم


یہ روسیاہیاں نہ کریں روسیاہ مجھے
میرے حضور، دافع کرب و غم و الم


لوٹا ہے مجھکو دردِ غم روزگار نے
توڑا ہے مجھ پہ گردشِ ایام نے ستم


اور اس پہ میری شامتِ اعمال مستزاد
تردامنی کے ساتھ تہی دامنی کا غم


ہر کس متاعِ خویش را دارد بہائے بیش
آں روسیاہ کہ ہیچ میرزد منم منم


بد ہوں مگر میں اچھے ۱؎ میاں کا غلام ہوں
غوث الوریٰ کا صدقہ خدایا کرم کرم


یارب تجھے انہیں کی اداؤں کا واسطہ
یارب تجھے انہیں کی رضا جوئی کی قسم


مولیٰ ہَوں، بے حساب عطایا مجھے عطا
یعنی بقدرِ جرم و خطا ہو ترا کرم


ہو اپنے مرشدوں کے جِلو میں جہاں رضا
یعنی جہاں ہو سایہ کناں قادری علم


اور غلغلہ جہاں پہ محمد میاں کا ہو
ہوں خیمہ زن جہاں مرے سرکار کے قدم


فرمائیں مجھ سے شاہِ مدینہ کہ ہاں خلیؔل
محبوب کا حرم ہے یہ محبوب کا حرم


اور میں کروں یہ عرض کہ بندے کی کیا بساط
کچھ شانِ بارگاہِ مدینہ کرے رقم


آئے پسندِ خاطر اقدس مرا کلام
سرکار کا کرم ہے یہ سرکار کا کرم


سن کر مرا قصیدہ یہ فرمائیں شاہِ دیں
تو مستحق ہے خلعتِ فاخَر کا، لاجرم


اتنے میں قدسیوں سے اٹھے شور مرحبا
اور میں کہوں کہ یہ بھی ہے منجملۂ کرم

Was this article helpful?
YesNo