Skip to main content
نعت

کوئے طیبہ کی یاد جب آئے

By August 18, 2021No Comments

کوئے طیبہ کی یاد جب آئے
کیوں نہ پہلو میں دل تڑپ جائے


انکے ہونٹوں پہ گر ہنستی آئے
چاند کی چاندنی بھی شرمائے


تیرے منگتا اے کملیا والے
ہیں تیرے در پہ ہاتھ پھیلائے


اس کو اپنی خبر؟ معاذ اللہ
نگۂ ناز جس پہ پڑجائے


دست رحمت کو یہ گوارہ کہاں
خالی چوکھٹ سے کوئی پھر جائے


نوک غمزہ پہ کچھ ستارے ہیں
ان کی فرقت کے یہ ہیں سرمائے


دل میں وہ آنکھ کے دریچوں سے
مسکراتے ہوئے اتر آئے


آج پھرتے ہیں ان کے دیوانے
تخت و تاج شہی کو ٹھکرائے


کیا کریں ہم فراق کے مارے
جب مدینے کی یاد تڑپائے


دیکھ کر سبز جالیوں کا سماں
گلشن خلد کیوں نہ للچائے


وہ محمدﷺ کا آستانہ ہے
خود بخود سر جہاں پہ جھک جائے


رہ کے طیبہ سے دور جو گزرے
ہم تو اس زندگی سے باز آئے


بول اٹھیں ان کی رحمتیں اخؔتر
ہر مصیبت زدہ ادھر آئے

Was this article helpful?
YesNo