Skip to main content
نعت

کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو

By September 6, 2021No Comments

کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو
خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شان خدا تم ہو

نبیوں میں ہو تم ایسے نبی الانبیا تم ہو
حسینوں میں تم ایسے ہو کہ محبوب خدا تم ہو

تمہارا حسن ایسا ہے کہ محبوب خدا تم ہو
مہ کامل کرے کسب ضیا وہ مہ لقا تم ہو

علو مرتبت پیارے تمہارا سب پہ روشن ہے
مکین لامکاں تم ہو شہ عرش علا تم ہو

تمہاری حمد فرمائی خدا نے اپنے قرآں میں
محمد اور ممجد، مصطفےٰ و مجتبیٰ تم ہو

جو سب سے پچھلا ہو پھر اس کا پچھلا ہو نہیں سکتا
کہ وہ پچھلا نہیں اگلا ہو اس سے ورا تم ہو

تمہیں سے فتح فرمائی تمہیں پر ختم فرمائی
رسل کی ابتدا تم ہو نبی کی انتہا تم ہو

خدا نے ذات کا اپنی تمہیں مظہر بنایا ہے
جو حق کو دیکھنا چاہیں تو اس کے آئینہ تم ہو

تمہیں باطن تمہیں ظاہر تمہیں اول تمہیں آخر
نہاں بھی ہو عیاں بھی مبتدا و منتہا تم ہو

منور کر دیا ہے آپ کے جلوؤں نے عالم کو
مہ و خورشید کو بخشی ضیا نور خدا تم ہو

مٹادی کفر کی ظلمت تمہارے روئے روشن نے
سویرا شرک کا تم نے کیا شمس الضحیٰ تم ہو

جہاں تاریک تھا سارا اندھیرا ہی اندھیرا تھا
تم آئے ظلمتیں تم سے مٹیں بدرالدجیٰ تم ہو

مرا منہ کیا کہ میں مدح و ستائش میں زباں کھولوں
مرے آقا تم ایسے کہ ممدوح خدا تم ہو

رفعنا سے تمہاری رفعت بالا ہوئی ظاہر
کہ محبوبان رب میں سب سے عالی مرتبہ تم ہو

علو رتبۂ سرکار عالی سب پہ روشن ہے
مکین لامکاں تم ہو شہ عرش علا تم ہو

شب معراج سے اے سید کل ہو گیا ظاہر
رسل ہیں مقتدی سارے امام الانبیا تم ہو

نہ ہوتے تم نہ ہوتے وہ کہ اصل جملہ تم ہی ہو
خبر تھے وہ تمہاری میرے مولیٰ مبتدا تم ہو

تمہارے چاہنے والے کو کچھ ایسی محبت ہے
ادھر ہوجائے وہ مولیٰ جدھر صدرالوریٰ تم ہو

تمہارے چاہنے والے اسے محبوب ہیں سارے
کچھ اس انداز کے پیارے حبیب کبریا تم ہو

تمہارے بعد پیدا ہو نبی کوئی نہیں ممکن
نبوت ختم ہے تم پر کہ ختم الانبیا تم ہو

یہ کیا میں نے کیا کیوں ڈھونڈ ڈالا عرصۂ محشر
ہمیں معلوم تھا پیارے ہمارا مدعا تم ہو

مگر ایسا نہ کیوں ہوتا کہ محشر میں یہ کھلنا تھا
شفیع مجرماں پیش خدا تنہا شہا تم ہو

گرفتار بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر
کہ ہر بے کل کی کل ٹوٹے دلوں کا آسرا تم ہو

خبر لیجے خدارا میرے مولیٰ مجھ سے بے کس کی
کہ ہر بے کس کے کس بے بس کے بس روحی فدا تم ہو

مسلط کردیا تم کو خدا نے اپنے غیبوں پر
نبی مجتبیٰ تم ہو رسول مرتضیٰ تم ہو

چمک جائے دل نورؔی تمہارے پاک جلوؤں سے
مٹادو ظلمتیں دل کی مرے نور الہدیٰ تم ہو

سامانِ بخشش