Skip to main content
نعت

کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا

By September 7, 2021No Comments

کسی کا نہ کوئی جہاں یار ہوگا
وہ آقا ہمارا خریدار ہوگا

جو یاں عشق احمد میں شر شار ہوگا
وہ دنیا و عقبیٰ میں ہشیار ہوگا

نبی کی بدولت بروز قیامت
خدا وند عالم کا دیدار ہوگا

بھٹکتے پھریں کس لیے ان کے عاصی
شفیع الوریٰ سب کا غم خوار ہوگا

نہ گھبرامیں عاصی کہ روز قیامت
فترضیٰ کا جلوہ نمودار ہوگا

جسے چاہیں بخشیں کہ خلدو جناں میں
خدا کی قسم دخل سرکار ہوگا

شفاعت کا دولھا بنائیں گے ان کو
انہیں تاجِ بخشش سزاوار ہوگا

یہاں ان کا دامن پکڑ لو وگر نہ
مدد چاہنا واں پہ بیکار ہوگا

عباد النبی جائیں جنت میں سیدھے
مخالف نبی کاگرفتار ہوگا

مدینے کی گلیاں دکھا دے خدا یا
یہ اچھا وہیں پر دل زار ہوگا

جو دیکھیں گے ہم سبز گنبد نبی کا
ہمارا نصیبہ بھی بیدار ہوگا

مدینے پہنچنے تو دو ہم سفیرو
بسیرا مرا زیر دیوار ہوگا

نہ چھوٹے کبھی اپنے مرشد کادامن
جمؔیل اس سے بیڑا ترا پار ہوگا

قبالۂ بخشش