Skip to main content
نعت

کرم ہی کرم ہے کرم ہی کرم ہے

By January 1, 2022September 9th, 2022No Comments

کرم ہی کرم ہے کرم ہی کرم ہے
کرم ہی کے صدقے سے قائم بھرم ہے

میرے دل شکستہ کی آہیں سنو تم
تمہارے ہی رب کی تمہیں اب قسم ہے

برس جائیں چھینٹیں مٹیں دل کے دھبے
تمہارے تصرف میں ابرِ کرم ہے

کہوں کس سے جا کر میں غم کی کہانی
میرے روبرو آپ ہی کا حرم ہے

مجھے اپنے در پر بلاتے ہی رہنا
تمہاری ہی عادت تو جود و کرم ہے

گناہوں میں ڈوبا ہے شاکر بے چارہ
نبھاتے ہو پھر بھی یہ شانِ کرم ہے

شفاعت کا سائل ہے شاکرؔؔ تمہارا
سوا کون تیرے شفیعِ امم ہے

کلام:
مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری