Skip to main content
نعت

کرم کرتے ہی رہتے ہو کرم کرتے ہی رہنا تم

By January 1, 2022September 9th, 2022No Comments

کرم کرتے ہی رہتے ہو کرم کرتے ہی رہنا تم
مدینے میں بلاتے ہو بلاتے یوں ہی رہنا تم

تَصَوِّر میں تخّیل میں مدینے آتے جاتے تھے
بلایا اب حقیقت میں بلاتے یوں ہی رہنا تم

گراہوں بار عصیاں سے *اغثنی یارسول اللہ*
گروں کو تم اٹھاتے ہو اٹھاتے یوں ہی رہنا تم

غمِ عشق محمدﷺ میں رہیں آنکھیں ہمیشہ نم
پلاتے جامِ الفت ہو پلاتے یوں ہی رہنا تم

نظر کے سامنے حاضر ہے آقاﷺ آپ کا مجرم
مٹاؤ اس کے جرموں کو مٹاتے یوں ہی رہنا تم

ملی افطار کی عزت مجھے پھر ماہِ رمضان میں
کھلایا مجھ کو قدموں میں کھلاتے یوں ہی رہنا تم

ملے شب قدر کی نعمت شہا حمزہ کے صدقے میں
لٹاتے ان کا صدقہ ہو لٹاتے یوں ہی رہنا تم

چلاہوں پھر مدینے سے لئے ارمان یہ دل میں
بلانا جلد طیبہ میں بلاتے یوں ہی رہنا تم

مرادیں سب نے پائی ہیں اسی سرکارﷺ میں آکر
ہنسایا تم نے روتوں کو ہنساتے یوں ہی رہنا تم

کرم سے آپ کے جاگا پسر کا بخت خفتہ یوں
دکھایا اس کو طیبہ بھی دکھاتے یوں ہی رہنا تم

یہ مانا مجرم و عاصی ہے تمہارا شاکرنوریؔ
نبھاتے اس کو رہتے ہو نبھاتے یوں ہی رہنا تم

کلام:
مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری