Skip to main content
نعت

چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا

By September 6, 2021No Comments

چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا
کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہم زنگار کا

روکش خلد بریں ہے دیکھ کوچہ یار کا
حیف بلبل اب اگر لے نام تو گلزار کا

حسن کے بے پردگی پردہ ہے آنکھوں کے لئے
خود تجلی آپ ہی پردہ ہے روئے یار کا

حسن تو بے پردہ ہے پردہ ہے اپنی آنکھ پر
دل کی آنکھوں سے نہیں ہے پردہ روئے یار کا

اک جھلک کا دیکھنا آنکھوں سے گو ممکن نہیں
پھر بھی عالم دل سے طالب ہے ترے دیدار کا

تیرے باغ حسن کی رونق کا کیا عالم کہوں
آفتاب اک زرد پتا ہے ترے گلزار کا

کب چمکتا یہ ہلال آسماں ہر ماہ یوں
جو نہ ہوتا اس پہ پر تو ابروئے سرکار کا

جاگ اٹھی سوئی قسمت اور چمک اٹھا نصیب
جب تصور میں سمایا روئے انور یار کا

حسرت دیدار میں اور آنکھیں بہہ چلیں
تو ہی والی ہے خدایا دیدۂ خوں بار کا

بھیک اپنے مرہم دیدار کی کردو عطا
چاہئے کچھ منہ بھی کرنا زخم دامن دار کا

کام نشتر کا کیا ناصح نصیحت نے تری
چیر ڈالا اور دامن زخم دامن دار کا

یوں ہی کچھ اچھا مداوا اس کا ہوگا بخیہ گر
چاک کر ڈالوں گریباں زخم دامن دار کا

از سر بالین من بر خیزا اے ناداں طبیب
ہوچکا تجھ سے مداوا عشق کے بیمار کا

فتنے جو اٹھے مٹا ڈالے روش نے آپ کی
کیوں نہ ہو دشمن بھی قائل خوبی رفتار کا

چوکڑی بھولا براق باد پا یہ دیکھ کر
ہے قدم دوش صبا پر اس سبک رفتار کا

کوئی دم کی دیر ہے آتے ہیں دم کی دیر ہے
اب چمکتا ہے مقدر طالب دیدار کا

جب گرا میں بیخودی میں ان کے قدموں پر گرا
کام تو میں نے کیا اچھے بھلے ہشیار کا

آبلہ پا چل رہا ہے بیخودی میں سر کے بل
کام دیوانہ بھی کرتا ہے کبھی ہشیار

آبلوں کے سب کٹورے آہ خالی ہوگئے
منہ ابھی تر بھی نہ ہونے پایا تھا ہر خار کا

آبلے کم مائیگی پر اپنی روئیں رات دن
سوکھ کر کانٹا ہوا دیکھیں بدن ہر خار کا

وا اسی برتے پہ تھا یہ تتا پانی واہ واہ
پیاس کیا بجھتی دہن بھی تر نہیں ہر خار کا

پاؤں میں چبھتے تھے پہلے اب تو دل میں چبھتے ہیں
یاد آتا ہے مجھے رہ رہ کے چبھنا خار کا

پاؤں کیا میں دل میں رکھ لوں پاؤں جو طیبہ کے خار
مجھ سے شوریدہ کو کیا کھٹکا ہو نوک خار کا

راہ پر کانٹے بچھے ہیں کانٹوں پر چلنی ہے راہ
ہر قدم ہے دل میں کھٹکا اس رہ پر خار کا

خار گل سے دہر میں کوئی چمن خالی نہیں
یہ مدینہ ہے کہ ہے گلشن گل بے خار کا

گل ہو صحرا میں تو بلبل کے لئے صحرا چمن
گل نہ ہو گلشن میں تو گلشن ہے اک بن خار کا

گل سے مطلب ہے جہاں ہو عند لیب زار کو
گل نہ ہو تو کیا کرے بلبل کہو گلزار کا

پھر سے ہوجائے نہ عالم میں کہیں طوفان نوح
لو ابلتا ہے سمندر اپنی چشم زار کا

دھجیاں ہوجائے دامن فرد عصیاں کامری
ہاتھ آجائے جو گوشہ دامن دلدار کا

کوثر و تسنیم سے دل کی لگی بجھ جائے گی
میں تو پیاسا ہوں کسی کے شربت دیدار کا

آئینۂ خانہ میں ان کے تجھ سے صدہا مہر ہیں
مہر کس منہ سے کیا ہے حوصلہ دیدار کا

جلوہ گاہ خاص کا عالم بتائے کوئی کیا
مہر عالم تاب ہے ذرہ حریم یار کا

ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق روشن کئے
عرش و کرسی لامکاں پر بھی ہے جلوہ یار کا

زرد رو کیوں ہوگیا خورشید تاباں سچ بتا
دیکھ پایا جلوہ کیا اس مطلع انوار کا

ہفت کشور ہی نہیں چودہ طبق زیرِ نگیں
عرش و کرسی لامکاں کس کامرے سرکار کا

یہ مہ و خوریہ ستار چرخ کے فانوس ہیں
شمع روشن میں ہے جلوہ ترے رخسار کا

مرقد نورؔی پہ روشن ہے یہ لعل شب چراغ
یا چمکتا ہے ستارہ آپ کی پیزار کا

سامانِ بخشش

Leave a Reply