Skip to main content
نعت

وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے

By September 8, 2021No Comments

وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے
ان ہی کی پہنچ ہے خالق تک ان تک خلقت کی رسائی ہے

وہ رب کے ہیں رب ان کا ہے جو ان کا ہے وہ رب کا ہے
بے ان کے حق سےجو ملا چاہے دیوانہ ہے سودائی ہے

وہ سخت گھڑی اللہ غنی کہتے ہیں نبی نفسی نفسی
اس وقت اک رحمت والے کو مجرم امّت یاد آئی ہے

اچھوں کا زمانہ ساتھی ہے میں بد ہوں مجھ کو نبھا ہو تم
کہلا کہ تمہارا جاؤں کہاں بے بس کی کہاں شنوائی ہے

آجاؤ بدن میں جاں ہو کر اور دل میں رہو ایمان بن کر
ہے جسم ترا یہ جان تیری اور دل تو خاص کمائی ہے

آنکھوں میں ہیں لیکن مثل نظر یوں دل میں ہیں جیسےجسم  میں جاں
ہیں مجھ میں وہ لیکن مجھ سے نہاں اس شان کی جلوہ نمائی ہے

اللہ کی مرضی سب چاہیں اللہ رضا ان کی چاہے
ہے جنبشِ لب قانونِ خدا قرآن و خبر کی گواہی ہے

مالک ہیں خزانۂ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں
دی خلد جنابِ ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے

دنیا کو مبارک ہو دنیا اللہ کرے وہ مجھ کو ملیں!
ہر سر میں جن کا سودا ہے ہر دل میں جن کا شیدائی ہے

گو سجدۂ سر ہےان کو منع لیکن دل و جاں ہیں  سجدہ کناں
ہے حکمِ شریعت سر پہ رواں دل و جاں نے معافی پائی ہے

وہ کعبۂ سر ہے یہ قبلۂ دل  وہ قبلہ تن ہے یہ کعبۂ جاں
سر اس پہ جھکا دل ان پہ فدا اور جان ان کی شیدائی ہے

لکڑی نے کیا ان سے شکوہ اونٹوں نے کیا ان کو  سجدہ
ہیں قبلۂ حاجات عالم کے سالکؔ کیوں بات بڑھائی ہے

Leave a Reply