Skip to main content
نعت

میں نے رخ کرلیا مدینے کا

By January 1, 2022September 9th, 2022No Comments

میں نے رخ کرلیا مدینے کا
کیا بگاڑے کوئی سفینے کا

چشمِ رحمت پڑی ہے مجھ پر بھی
لطف آۓ گا اب تو جینے کا

اپنی الفت کا جام دو مجھ کو
مست کر دو مجھے مدینے کا

جانبِ نار میں نہ جاؤں گا
میں نے رخ کرلیا مدینے کا

کون روکے گا راہ سے مجھ کو
میں نے رخ کرلیا مدینے کا

آخری وقت دفن ہونے کو
دے دو ٹکڑا مجھے مدینے کا

کیسے کہہ دوں کہ بے سہارا ہوں
مجھ کو آقاﷺ ملا مدینے کا

دے دو طیبہ کی حاضری کا شرف
میرا مسکن بنا مدینے کا

ابرِ رحمت کو اب برسنے دو
داغ دھل جاۓ میرے سینے کا

شاکرِ بے نوا کو بھی آقاﷺ
پھر سے مہماں بنا مدینے کا

خواجۂ خواجگاں کے صدقے میں
میں مسافر بنا مدینے کا

غوث و خواجہ ، رضا و ابنِ رضا
نام خلدِ بریں کے زینے کا

ہے یہی وردِ شاکرِ رضوی
میں نے رخ کرلیا مدینے کا

کلام:
مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری