Skip to main content
منقبت

میر بغداد میں لاچار ہوں شئیاللہ

By November 24, 2020No Comments

حضرت علامہ مولانا سیّد فضل الحسن رضوی رزاقی المتخلص بہ حسرؔت موہانی کی تحریر کردہ منقبتِ غوثِ اعظم قدس سرہٗ پر سید الشعراء حضور محدثِ اعظمِ ہند ابوالمحامد سؔیّد محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی کی لکھی گئی درد و کرب میں ڈوبی خوب صورت تضمین اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد دکن کے شکریے کے ساتھ آپ کی عقیدتوں کی میز پر ….
مشاہد  رضوی

*::: میر بغداد میں لاچار ہوں شئیاللہ :::*

میں خطاکار و گنہگار ہوں شئیاً للہ
بندہِ نفسِ سیہ کار ہوں شئیاً للہ
مجرم و بےکس و بے یار ہوں شئیاً للہ
’’دستگیری کا طلبگار ہوں شئیاً للہ
میرِ بغداد میں لاچار ہوں شئیاً للہ‘‘

زندہِ درگور ہوں بیمار ہوں شئیاً للہ
پا بہ زنجیر وگرفتار ہوں شئیاً للہ
اُسپہ بے دست ہوں نادار ہوں شئیاً للہ
’’دستگیری کا طلبگار ہوں شئیاً للہ
میرِ بغداد میں لاچار ہوں شئیاً للہ‘‘

بندہِ ایزدِ غفّار ہوں شئیاً للہ
اُمّتِ احمدِ مختار ہوں شئیاً للہ
خانہ زادونمیں میں سرکار ہوں شئیاً للہ
’’دستگیری کا طلبگار ہوں شئیاً للہ
میرِ بغداد میں لاچار ہوں شئیاً للہ‘‘

گو زمانے سے ہوں بیمار، مرض ہے مزمن
گوستاتا ہے ہمیشہ سے مجھے نفس کا جن
لب کشائی کا ارادہ بھی کیا گو ہر دن
’’حالِ دل شرم سے اب تک نہ کہا تھا لیکن
آج میں درپئے اظہار ہوں شئیاً للہ‘‘

عمر جرموں میں تو چالیس سے زیادہ گزری
چھاگئی آہ مرے حال پہ تیرہ بختی
قادری کہتے رہے پھر بھی مجھے سب یونی
’’کرمِ خاص کے لائق تو نہیں میں پھر بھی
آپ کا حاشیہ بردار ہوں شئیاً للہ‘‘

مجھ پہ اب فقرے کسے جاتے ہیں کیسے کیسے
پوچھتے مجھ سے ہیں تو جیتا ہے کس کے برتے
میں تو اے غیرتِ جَد تھک گیا سنتے سنتے
’’آپ ہی سنئے کہ اب اور کہوں میں کس سے
بستہِ دامنِ سرکار ہوں شئیاً للہ‘‘

نہ کوئی اور تمنّا ہے نہ مقصد نہ مفاد
آرزو ہے تو یہی اور اسی کی ہے یاد
دیکھوں گر روئے منور تو کہوں زندہ باد
’’جلوہِ پاک نظر آئے تو بر آئے مراد
تشنہِ شربتِ دیدار ہوں شئیاً للہ‘‘

مجھ کو معلوم ہے میں کیا ہوں ظلوم اور جہول
نہ میں سائل کسی لائق ہوں نہ میرا مسئول
اور مری عرضِ تمنّا بھی ہے کیا خاک ہے دھول
’’کیا کروں میری دعا بھی تو نہیں ہے مقبول
میں کہ اِک فردِ گنہگار ہوں شئیاً للہ‘‘

اپنی نااہلی بھی محسوس ہو اپنی ذلّت
دل بھی شرمندہ ہو اور طاری ہو خوف و وحشت
یعنی کچھ دیر کو ہوجائیے سؔیّد صورت
’’غوثِ اعظم سے جو مانگو گے ملے گا حسرؔت
پس کہو حاضرِ دربار ہوں شئیاً للہ‘‘

دیکھ لو سؔیّدِ لاچار کی صورت حالت
اسپہ حضرت کی رہا کرتی ہے شفقت رحمت
یعنی جب بندہ نوازی ہی ہے عادت سیرت
’’ غوثِ اعظم سے جو مانگو گے ملے گا حسرؔت
پس کہو حاضرِ دربار ہوں شئیاً للہ‘‘

یہیں پاتا ہے ہر اِک صاحِبِ حاجت حاجت
قادری جائے کہیں اور تو غیرت غیرت
مثلِ سؔیّد کے کرو نعرہِ حضرت حضرت
’’غوثِ اعظم سے جو مانگو گے ملے گا حسرؔت
پس کہو حاضرِ دربار ہوں شئیاً للہ‘‘

استغاثہ:
علامہ مولانا سیّد فضل الحسن حسرؔت موہانی

تضمین نگار:
حضور محدثِ اعظمِ ہند ابوالمحامد سؔیّد محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی