میرے مولا میرے سرور رحمۃ للعا لمینمیرے آقا میرے رہبر رحمۃ للعا لمین
لاتے ہی تشریف فرمایا کہ ھب لی امتیاے شفیع روز محشر رحمۃ للعا لمین
دست اقدس سینہ پر ہو روح کھچتی ہو مریلب پہ جاری ہو برابر رحمۃ للعا لمین
روز محشر شان رحمت کے کرشمے دیکھناہے عجب پر نور منظر رحمۃ للعا لمین
میں پیام زندگی سمجھوں اگر یوں موت آئےآپ کا در ہو مرا سر رحمۃ للعا لمین
قدر تیں رب نےتمہارے تم کو دی ہیں بے شمارمیرا چمکا دو مقدر رحمۃ للعا لمین
مدح خوانی کا صلہ دیدار حق خلد بریںہو عطا یا شاہ کوثر رحمۃ للعا لمین
عالم علم لدنی آپ کو حق نے کیاحال سب روشن ہے تم پر رحمۃ للعا لمین
کفر کی ظلمت چھنٹی جب نور چمکا آپ کاحق نے خورشید منور رحمۃ للعا لمین
اپنے دامن میں چھپا لینا خدا کے واسطےتیزہو جب مہر محشر رحمۃ للعا لمین
دل میں آنکھوں میں جگہ ہے آپ ہی کے واسطےآسلیماں مور کے گھر رحمۃ للعا لمین
میں بھکاری در بدر کب تک پھروں خستہ خراباب بلا لو اپنے در پر رحمتہ اللعا لمین
ہم کمینے روز و شب سوتے ہیں بالکل بے خبرراب بھر روتے تھے سرور رحمۃ للعا لمین
مظہر ذات خدا محبوب رب دوسرابادشاہ ہفت کشور رحمۃ للعا لمین
جس نے دیکھی تیری صورت حق اسے یاد آگیاکیوں نہ ہوں آنکھیں منور رحمۃ للعا لمین
تو نے فرمایا ھوا المعطی وانی قاسمکیوں نہ مانگوں تیرے در پر رحمۃ للعا لمین
روز محشر عاصیوں کو بخشوانے کے لیےڈھونڈھتے ہیں مثل مادر رحمۃ للعا لمین
ہم کو خواہش ہے نہ دنیا کی نہ کچھ عقبیٰ کی فکربس گئے ہیں دل کے اندر رحمۃ للعا لمین
ہے نہ کوئی تیرا ثانی اور نہ ہوگا تا ابدہر صفت میں سب سے بڑھ کر رحمۃ للعا لمین
دور نے نزدیک آواز یکساں ہی سنیجب ہوئے بالائے منبر رحمۃ للعا لمین
ہم سیہ کار وں کی بخشش کی کوئی صورت نہیںناز ہے تیرے کرم پر رحمۃ للعا لمین
میری طاعت اور محبت میں رہو بستہ کمربس یہ ہے ارشادِ سرور رحمۃ للعا لمین
دین کو چھوڑو نہ دنیا کے لیے اے مومنودین و دنیا دیں گے یکسر رحمۃ للعا لمین
جالیاں ہوں ہاتھ میں اور التجائیں لب پہ ہوںہو مقدر یاوری پر رحمۃ للعا لمین
تیرے تیری آل کے صدقے میں اے جان جہاںہو میسر حج اکبر رحمۃ للعا لمین
تیرا جلوہ تھا شب اسریٰ کہ عرش و فرش میںنور حق تھا جلوہ گستر رحمۃ للعا لمین
کیا زمین و آسماں کیا انبیا کیا اولیاسب ہیں مشق تو ہے مصدر رحمۃ للعا لمین
بس خدا ان کونہ کہنا اور جو چاہو کہوسب سے بالا سب سے برتر رحمۃ للعا لمین
ذکر تیرا دلکشا اور نام تیرا جانفزافکر تیری روح پرور رحمۃ للعا لمین
سب قضیحان زمانہ دم بخود حیرت میں ہیںکون ہے تم سا سخنو ر رحمۃ للعا لمین
رمز محبوب و محب میں تیسرے کو دخل کیاسرِّ حق ہے ذات اطہر رحمۃ للعا لمین
پنجتن ہیں فاطمہ خیرالنسا شیر خداسبط اکبر سبطِ اصغر رحمۃ للعا لمین
سایۂ عرش الہٰی میں کھڑا کرنا مجھےہیں سیہ عصیاں سے دفتر رحمۃ للعا لمین
بے پڑھے عالم نے ہر عالم پہ علم القاکیےعلم ِ غیب حق کے مظہر رحمۃ للعا لمین
پنجۂ قدر سنواری جن کو وہ ہیں مشک ساںتیرے گیسوئے معنبر رحمۃ للعا لمین
تم سخی داتا ہو میں ادنیٰ بھکاری آپ کادید و ٹکڑا ہاتھ اٹھا کر رحمۃ للعا لمین
نیک بندوں پرتو رہتی ہے عنایت روزو شبروسیہ پر بھی کرم کر رحمۃ للعا لمین
سنتے ہی جاؤک استغفار میں کرنے لگاہوں جرائم عفو یکسر رحمۃ للعا لمین
خادم درباں بنا لوبندۂ درگاہ کوپھر رہا ہوں خوار درد رحمۃ للعا لمین
تشنگی شربت دیدار سے مضطر ہوں میںہو عطا للہ ساغر رحمۃ للعا لمین
خوف محشر کیوں جمیلِ قادری کو ہودونوں عالم میں ہیں سر پر رحمۃ للعا لمین
قبالۂ بخشش