Skip to main content
نعت

میرے مولا میرے سرور رحمۃ للعا لمین

By September 7, 2021No Comments

میرے مولا میرے سرور رحمۃ للعا لمین
میرے آقا میرے رہبر رحمۃ للعا لمین

لاتے ہی تشریف فرمایا کہ ھب لی امتی
اے شفیع روز محشر رحمۃ للعا لمین

دست اقدس سینہ پر ہو روح کھچتی ہو مری
لب پہ جاری ہو برابر رحمۃ للعا لمین

روز محشر شان رحمت کے کرشمے دیکھنا
ہے عجب پر نور منظر رحمۃ للعا لمین

میں پیام زندگی سمجھوں اگر یوں موت آئے
آپ کا در ہو مرا سر رحمۃ للعا لمین

قدر تیں رب نےتمہارے تم کو دی ہیں بے شمار
میرا چمکا دو مقدر رحمۃ للعا لمین

مدح خوانی کا صلہ دیدار حق خلد بریں
ہو عطا یا شاہ کوثر رحمۃ للعا لمین

عالم علم لدنی آپ کو حق نے کیا
حال سب روشن ہے تم پر رحمۃ للعا لمین

کفر کی ظلمت چھنٹی جب نور چمکا آپ کا
حق نے خورشید منور رحمۃ للعا لمین

اپنے دامن میں چھپا لینا خدا کے واسطے
تیزہو جب مہر محشر رحمۃ للعا لمین

دل میں آنکھوں میں جگہ ہے آپ ہی کے واسطے
آسلیماں مور کے گھر رحمۃ للعا لمین

میں بھکاری در بدر کب تک پھروں خستہ خراب
اب بلا لو اپنے در پر رحمتہ اللعا لمین

ہم کمینے روز و شب سوتے ہیں بالکل بے خبر
راب بھر روتے تھے سرور رحمۃ للعا لمین

مظہر ذات خدا محبوب رب دوسرا
بادشاہ ہفت کشور رحمۃ للعا لمین

جس نے دیکھی تیری صورت حق اسے یاد آگیا
کیوں نہ ہوں آنکھیں منور رحمۃ للعا لمین

تو نے فرمایا ھوا المعطی وانی قاسم
کیوں نہ مانگوں تیرے در پر رحمۃ للعا لمین

روز محشر عاصیوں کو بخشوانے کے لیے
ڈھونڈھتے ہیں مثل مادر رحمۃ للعا لمین

ہم کو خواہش ہے نہ دنیا کی نہ کچھ عقبیٰ کی فکر
بس گئے ہیں دل کے اندر رحمۃ للعا لمین

ہے نہ کوئی تیرا ثانی اور نہ ہوگا تا ابد
ہر صفت میں سب سے بڑھ کر رحمۃ للعا لمین

دور نے نزدیک آواز یکساں ہی سنی
جب ہوئے بالائے منبر رحمۃ للعا لمین

ہم سیہ کار وں کی بخشش کی کوئی صورت نہیں
ناز ہے تیرے کرم پر رحمۃ للعا لمین

میری طاعت اور محبت میں رہو بستہ کمر
بس یہ ہے ارشادِ سرور رحمۃ للعا لمین

دین کو چھوڑو نہ دنیا کے لیے اے مومنو
دین و دنیا دیں گے یکسر رحمۃ للعا لمین

جالیاں ہوں ہاتھ میں اور التجائیں لب پہ ہوں
ہو مقدر یاوری پر رحمۃ للعا لمین

تیرے تیری آل کے صدقے میں اے جان جہاں
ہو میسر حج اکبر رحمۃ للعا لمین

تیرا جلوہ تھا شب اسریٰ کہ عرش و فرش میں
نور حق تھا جلوہ گستر رحمۃ للعا لمین

کیا زمین و آسماں کیا انبیا کیا اولیا
سب ہیں مشق تو ہے مصدر رحمۃ للعا لمین

بس خدا ان کونہ کہنا اور جو چاہو کہو
سب سے بالا سب سے برتر رحمۃ للعا لمین

ذکر تیرا دلکشا اور نام تیرا جانفزا
فکر تیری روح پرور رحمۃ للعا لمین

سب قضیحان زمانہ دم بخود حیرت میں ہیں
کون ہے تم سا سخنو ر رحمۃ للعا لمین

رمز محبوب و محب میں تیسرے کو دخل کیا
سرِّ حق ہے ذات اطہر رحمۃ للعا لمین

پنجتن ہیں فاطمہ خیرالنسا شیر خدا
سبط اکبر سبطِ اصغر رحمۃ للعا لمین

سایۂ عرش الہٰی میں کھڑا کرنا مجھے
ہیں سیہ عصیاں سے دفتر رحمۃ للعا لمین

بے پڑھے عالم نے ہر عالم پہ علم القاکیے
علم ِ غیب حق کے مظہر رحمۃ للعا لمین

پنجۂ قدر سنواری جن کو وہ ہیں مشک ساں
تیرے گیسوئے معنبر رحمۃ للعا لمین

تم سخی داتا ہو میں ادنیٰ بھکاری آپ کا
دید و ٹکڑا ہاتھ اٹھا کر رحمۃ للعا لمین

نیک بندوں پرتو رہتی ہے عنایت روزو شب
روسیہ پر بھی کرم کر رحمۃ للعا لمین

سنتے ہی جاؤک استغفار میں کرنے لگا
ہوں جرائم عفو یکسر رحمۃ للعا لمین

خادم درباں بنا لوبندۂ درگاہ کو
پھر رہا ہوں خوار درد رحمۃ للعا لمین

تشنگی شربت دیدار سے مضطر ہوں میں
ہو عطا للہ ساغر رحمۃ للعا لمین

خوف محشر کیوں جمیلِ قادری کو ہو
دونوں عالم میں ہیں سر پر رحمۃ للعا لمین

قبالۂ بخشش