Skip to main content
نعت

مچی ہے دھوم تحمید و ثنا کی

By September 7, 2021No Comments

مچی ہے دھوم تحمید و ثنا کی
صدائیں آتی ہیں صل علیٰ کی

محبت جس کوہے خیرالورٰی کی
عنایت اس پہ ہے ہر دم خدا کی

جنہوں نے خلق کی حاجت روا کی
انہیں سے ہم نے اپنی التجا کی

مدد کرنا مری اے ناصر خلق
کہ میرے نفس کافر نے دغا کی

مدد کی ہر مصیبت سے بچا یا
دوہائی جب بھی دی شاہ ہدیٰ کی

میں ہوں جن کا وہی ہیں میرے شافع
تو پھر کیوں فکر ہو روز جزا کی

گنہگارو مبارک باد تم کو
وہ رکھتے ہیں محبت انتہا کی

خدا فرمائے جب قرآں میں یٰس
ثنا پھر کیا ہو دُرِبے بہا کی

ہیں تاباں مہرومہ انجم درخشاں
ضیا ہے عارض بدر الدجیٰ کی

تمامی انبیا آئے مبشر
خبر اول سے تھی اس مبتدا کی

شب معراج نعمتوں سے بھردیا ہے
بھلا کچھ انتہا ہے اس عطا کی

دعائیں دے رہے ہیں دشمنوں کو
یہ شان حلم ہے کان سخا کی

اسی در کے ہیں ہم منگتا بھکاری
جہاں پر بھیڑ ہے شاہ و گدا کی

سمعٌ ناصرٌجن کے ہیں القاب
وہ سنتے ہیں پکارا اپنے گدا کی

ہیں سب ارض و سما و عرش و روشن
چمک ہے جلوہ ہائے جانفراکی

کہا جاؤک نے آؤ یہاں پر
معافی ملتی ہے ہر ایک خطا کی

تصوف چاہیے گر تجھ کو صوفی
اطاعت کر امام الاصفیا کی

عطا فوراً کیا جو کچھ بھی مانگا
یہاں حاجت اگر کی ہے نہ لاکی

ازل کے روز سے کون و مکان میں
انہیں کے نام کی نوبت بجا کی

فرشتوں نے کیا آدم کو سجدہ
یہ تھی تعظیم نور مصطفیٰ کی

ہوا مردودو لعنت کا پڑ طوق
عبادت کی بھی نجدی نے تو کیا کی

کرم ان کا عنایت ہے یہ ان کی
خبر لیتے ہیں مجھ جیسے گدا کی

مجھے بندہ کیا شاہ ہدےٰ کا
بڑی رحمت ہوئی رب العلا کی

ہر مژدہ عاصیوں کو روز محشر
صدائیں آئیں گی اِنِّی لَھَا کی

بدولت نقش پائے مصطفیٰ کے
بڑھی عزت حریم کبریا کی

تمہارا آستانہ مل گیا جب
مجھے خواہش ہو کیوں دار الشفا کی

ہمیشہ میں نے نافرنیاں کیں
عنایت تم نے مجھ پر دائما کی

خدا نے کرلیا محبوب اپنا
خوشا قسمت محب مصطفیٰ کی

مری تقدیر میں لکھا ہوا ہے
کرم حق کا شفاعت مصطفیٰ کی

تمہارا روئے انور دیکھتے ہی
نظر آنے لگی قدرت خدا کی

یہ فرمایا شب اسریٰ خدا نے
کہ تیری امت عاصی رِہا کی

کیا افلاک کو دوگام میں طے
یہ تیزی ہے براق برق پاکی

سلاطین زمانہ نے بصد عجز
تمہارے درپہ عرض مدعا کی

وہ پہنچی درجۂ مقبولیت پر
تمہارا نام لے کر جو دعا کی

ابھی جی اٹھیں مردے کلمہ پڑھتے
ہوا پہنچے جو دامان قبا کی

اٹھا کر لےگئیں حوریں جنان میں
قدم پر ان کے جس نے جان فد اکی

اندھیری رات ہے وقت مدد ہے
گھٹا چھائی ہوئی ہے کس بلا کی

لٹا جاتا ہے جنگل میں اکیلا
خدا را لو خبر اس بے نوا کی

بھنور میں پھنس گئی کشتی ہماری
دوہائی ڈوبتوں کے ناخدا کی

جمیلِ قادری تقدیر چمکی
کہ خدمت مل گئی مرشد رضا کی

قبالۂ بخشش