شخصیات

مولوی محمد محسن کاکوروی

By May 1, 2020No Comments

فن و شخصیت

پیشکش : محمد حارث

سخن کو رتبہ ملا ہے میری زبان کے لئے
زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کے لئے
ازل میں جب ہوئیں تقسیم نعمیتں محسن
کلام ِ نعتیہ رکھا میری زباں کے لئے

مولوی محمد محسن کاکوروی

محسن کاکوروی ۱۲۴۲ھ مطابق 1827ء کاکوری میں پیدا ہوئے۔
محسن کاکوروی کے والد ماجد مولوی حسن بخش کے دو صاحبزادگان مولوی محمد محسن و مولوی محمد احسنؔ ، سیّد علوی تھے اور سلسلہ نسب حضرت علی المرتضیٰ دامادِ مصطفی، شیر خدا سے جا ملتا ہے۔
والد کے انتقال کے بعد سات سال کی عمر سے جدّبزرگوار مولوی حسین بخش شہید کے زیر سایہ تربیت ہوئی۔
آپ کا قد میانہ اور رنگ گندمی تھا۔ چہرے پر چیچک کے کچھ داغ تھے جو بہت غور سے دیکھنے محسوس ہوتے تھے ۔ چہرہ گول تھا ۔ خسخسی داڑھی رکھتے تھے لیکن آخر عمر میں داڑھی بڑھا لی تھی ۔ ہر معاملے مین متانت اور سنجیدگی سے کام لیتے تھے ۔ آواز میں ملائمیت تھی ۔ ہر شخص سے خندہ پیشانی سے ملتے اور ہر شخص ان کو اپنا محسن و مربی جانتا ۔ غرض پرانی وضعداری اور ایشائی مروت کا بے مثل نمونہ تھے ۔
پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور اپنے مزاج کی وجہ سے اتنی عزت پائی کہ بغیر پوچھے منصف مقرر کیے گئے لیکن حضرت نے انکار کر دیا۔
شاعری کی ابتدا نو سال کی عمر سے ہوئی۔ شب کو اپنے جدّامجد کے پہلو میں سوتے تھے۔ خواب میں زیارت جمال مبارک حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرف ہوئے۔ اس خواب کی خوشی میں سب سے پہلی نظم لکھی۔ اُستاذِ گرامی مولوی ہادی علی اشک آپ کے خالہ زاد ماموں ثقہ، متقی پرہیزگار عالم باعمل تھے۔ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے وابستہ تھے۔ محسن کاکوروی نے حضرت اشک کی وفات کے بعد کسی سے اصلاح نہیں لی۔
محسن کاکوروی اُردو کے اوّلین عظیم شاعر ہیں جن کی شاعری کا موضوع نعت اور صرف نعت ہے۔ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں۔

ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی
نہ مرا شعر، نہ قطعہ، نہ قصیدہ نہ غزل

محسن کاکوروی کا عہد کشاکش حیات، رنگین بوالہواسی کا دور تھا۔ مغل سلطنت کا خاتمہ اور ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہو رہا تھا۔ انگریز ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کا جانی دشمن بن گیا تھا افراتفری کے باوجود میرضمیر ، میر خلیق ، میر انیس ، مرزا دبیر ، امیر مینائی اور محسن کاکوروی نے زمانے کی کج روی کے خلاف اُردو ادب کو اعلیٰ خیالات و جذبات سے مالا مال کیا محسن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتداءنعت سے کی۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اُردو شاعری میں نعت گوئی کا حقیقی دور محسن کاکوروی کی نعتیہ شاعری سے ہی شروع ہوتا ہے۔

محسن نے اپنی زندگی نعت کے لئے وقف کر دی ۔ اُن کا نعتیہ قصیدہ ”گلدستہ کلامِ رحمت “ کے نام سے ٢٥٩١ءکی تصنیف ہے یہ ان کا پہلا قصیدہ ہے اس سے پہلے قصیدے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں

آج کس صاحبِ شوکت کی میں تکتا ہوں راہ
کہ فرشتے ہیں اُٹھائے ہوئے در کی چلمن
رنگ و بو کس گل ِ رعنا کی پسند آئی ہے
نہ مجھے خواہش ِ گل ہے نہ ہے پروائے چمن

آپ نے محض سولہ سال کی عمر میں ایک ایسا شان دار نعتیہ قصیدہ لکھا جو خیالات کی پاکیزگی، جذبات کی صداقت، ندرتِ بیان اور تعظیم و محبت کے حدود میں قائم رہنے کی وجہ سے ایک شاہ کار قصیدہ سمجھاجاتا ہے۔ محسنؔ کا قصیدہ سراپائے رسول‘‘بھی کافی مقبولیت رکھتا ہے۔ محسنؔ نے قصائد کے علاوہ کئی مذہبی مثنویاں بھی لکھیں۔ آپ کا کلام مختلف امتحانات کے نصاب میں شامل ہے۔ آپ کو ’’حسانِ وقت‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ محسن کاکوروی نعتیہ ادب کا اوّلین ستون ہیں۔ آپ کے تعارف کے بغیر اُردو نعتیہ ادب کی تاریخ نامکمل رہے گی۔

4 اپریل 1905ء کو اسہال کبدی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ دوشنبہ ۱۰؍صفر ۱۳۲۳ھ مطابق 24 اپریل 1905ء میں دس بجے دن کو اس عالم فانی سے ملک جاودانی کے لیے روانہ ہو گئے۔ مزار بمقام مین پوری متصل مزار مولوی حسین بخش مرحوم کے ساتھ ہے۔

شاعری:-
قصائد
(۱)گلدستۂ رحمت(۲)ابیاتِ نعت(۳)مدیحِ خیر المرسلین(۴)نظمِ دل افروز(۴)انیٖسِ آخرت
مشہور زمانہ قصیدۂ لامیہ آپ کی شہرت کا باعث ہے

مثنویات
(۱)صبحِ تجلّی(۲)چراغِ کعبہ(۳)شفاعت و نجات(۴)فغانِ محسنؔ (۵)نگارستانِ الفت

کلام:-
سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے
زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کیلئے

زمیں بنائی گئی کس کے آستاں کیلئے
کہ لا مکاں بھی اٹھا سر و قد مکاں کیلئے

ترے زمانے کے باعث زمیں کی رونق ہے
ملا زمین کو رتبہ ترے زماں کیلئے

کمال اپنا دیا تیرے بدر عارض کو
کلام اپنا اتارا تری زباں کیلئے

نبی ہے نار ترے دشمنوں کے جلنے کو
بہشت وقف ترے عیش جاوداں کیلئے

تھی خوش نصیبی عرش بریں شب معراج
کہ اپنے سر پہ قدم شاہ مرسلاں کیلئے

نہ دی کبھی ترے عارض کو مہر سے تشبیہ
رہا یہ داغ قیامت تک آسماں کیلئے

عجب نہیں جو کہے تیرے فرش کو کوئی عرش
کہ لا مکاں کا شرف ہے ترے مکاں کیلئے

خدا کے سامنے محسن پڑھوں گا وصف نبیﷺ
سجے ہیں جھاڑ یہ باتوں کے لا مکاں کیلئے

سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جل

گلِ خوش رنگ رسولِ مدنی و عربی
زیبِ دامانِ ادب، طرہِ دستار ازل

نہ کوئی اس کا مشابہ ہے ہمسر نہ نظیر
نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل

اوجِ رفعت کا قمر، نخلِ دو عالم کا ثمر
بحرِ وحدت کا گُہر، چشمہؔ کثرت کا کنول

مہرِ توحید کی ضُو، اوج شرف کا مہ نو
شمعِ ایجاد کی لُو، بزم رِسالت کا کنول

مرجع روح امیں، زیب دہِ عرشِ بریں
حامی دینِ متیں، ناسخ ادیان و مِلل

ہفت اقلیم ولایت میں شہِ عالی جاہ
چار اطرافِ ہدایت میں نبی مُرسل