مولانا کیف الحسن قادری کی منظوم کاوش
تنویر القرآن جلد اول: ایک مختصر جائزہ
ڈاکٹر معین احمد خاں رضوی بریلوی

Copyright – All rights reserved جملہ حقوق ناشر محفوظ

اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے آسمانی کتب نازل فرمائیںتمام آسمانی کتب و صحائف مقدسہ میںقرآن کریم کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہے وہ نہ صرف اہل علم بلکہ نا خواندہ مومنین پر بھی واضح ہے۔قرآن مقدس کا مسلمانوں سے تعلق بالکل ایسا ہے جیسا جسم کا جان سے۔قرآن مجید ایک مسلمان کی روح، اس کی جان، اس کا ایمان اور اس کی فلاح و بہبود کا ذریعہ ہے۔مسلم قوم کی سربلندی و خوش حالی کا یقینی ضابطہ ہے قرآن مجید انسانوں کو ان کی حقیقت سے آشنا تو کرتا ہی ہے بلکہ کائنات کے راز ہائے سربستہ ان پر منکشف کرتا ہے۔ مسلمانوں کے لئے ان کی عظمت و سربلندی کا راز صرف قرآن حکیم کے ساتھ وابستگی میں ہے۔قوم مسلم نے اپنے دور عروج میں سائنس و معقولات میں جو حیرت انگیز ترقیاں کیں وہ قرآن مقدس ہی کی ہدایت کا نتیجہ تھیں۔دور اول کے مسلمان یا اگر کہا جائے تو آج بھی ہمارے پیشوا و اہل اللہ ہر دینی و دنیوی معاملات میں قرآن مقدس ہی سے رہبری و روشنی حاصل کرتے ہیں۔اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان اور ’’قرآن فہمی‘‘ لازم و ملزوم ہیں۔ اسی قرآن مقدس میں چھپے ہوئے راز ہائے سربستہ کے لئے ہمارے بزرگوں نے اللہ کے اس کلام کا اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے امت مسلمہ پر احسان عظیم کیا۔حالاں کہ یہ بات سبھی اہل علم جانتے ہیں کہ ترجمہ نگاری ایک انتہائی دشوار مرحلہ ہے۔ترجمہ کا تعلق زبان و بیان دونوں سے ہے۔جس زبان سے ترجمہ کیا جارہاہے یعنی source language اور جس زبان میں کیا جارہا ہے یعنی Target language دونوں پر یکساں عبور ہو۔ اس کے با وجود بھی ترجمہ نگاری کا حق ادا نہیں ہو سکتا جب تک کہ ایک اچھے مترجم کو دونوں زبانوں کے ادبی، تہذیبی اور ثقافتی پس منظر سے اچھی طرح واقفیت نہ ہو۔بہر حال یہ تو ہوئی عام ترجمہ نگاری کی بات۔لیکن اگر قرآن مقدس یعنی کلام اللہ کے ترجمہ کی بات کریں تو اس کی تو بات ہی الگ ہے علم و ادب، تہذیب و ثقافت یا اصطلاحی یا محاورتی میدانوں کے علاوہ اس میں جب تک فقہ و تفسیر و شریعت مصطفی ﷺ کے تمام گوشوں پر گہری نظر نہ ہو تو یہ ممکن ہی نہیں۔اس تناظر میں جب ہم بر صغیر کے قرآنی تراجم پر بات کریں تو اس وقت اردو زبان میں کم و بیش ایک درجن سے زائدترجمے موجود ہیں۔ان ترجموں پر اگر سرسری نظر ڈالیں تو پہلے دو اردو ترجمے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے شہزادوں کے ذریعے منظر عام پر آئے۔ایک لفظی ترجمہ جسے اردو کا پہلا ترجمہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے یعنی شاہ رفیع الدین صاحب کا ترجمہ ،جس کو کافی پزیرائی بھی ملی۔اور دوسرا ترجمہ انہی کے برادر اصغر حضرت شاہ عبد القادر کے ذریعے سامنے آیا اس ترجمہ کو ہم پہلا با محاورہ و سلیس و آسان زبان میں کیا گیا ترجمہ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اردو کے تمام تراجم کے تعلق سے اگر بات کی جائے یا بالفاظ دگر اہل علم و فضل کی آرا کو دلائل و براہین کے ساتھ پیش کیا جائے تو ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اس دور جدید میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے ذریعے کیا گیا ’’کنز الایمان‘‘ کے نام سے ترجمۂ قرآن مجید سب سے زیادہ ایمان افروز بصیرت آمیز اورشہرہ آفاق ترجمہ ہے۔اور جس کی مقبولیت کا گراف روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ، کیوں کہ فاضل بریلوی کی زبان و بیان پر قادر الکلامی و تبحر علمی کا اعتراف نہ صرف ان کے معتقدین بلکہ ان لوگوں کو بھی ہے جو مسلکی اعتبار سے فاضل بریلوی کے مخالفین کی فہرست میں شامل ہیں۔ یہاں اس مضمون میں فاضل بریلوی کے ترجمۂ قرآن کا کوئی تقابلی جائزہ پیش کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ اس ترجمۂ قرآن مجید یعنی کنز الایمان و تفسیر نعیمی یا خزائن العرفان ‘‘ کو ہماری جماعت کے ایک فاضل ، جنہیں ہم کہنہ مشق شاعر کہیں یا عاشقِ حدائق بخشش ، نے منظوم جامہ پہنایا ہے ۔ اسی منظوم کاوش جو اردو شاعری کی ایک مقبول صنف ’’مثنوی‘‘ میں ہے ، کے تعلق سے کچھ سپرد قرطاس کرنا ہے۔

ابھی دو روز قبل جامعۃ الرضا کے فارغ التحصیل عالم عزیزم مولانا افضل نوریؔ مرکزی نے مولانا موصوف کی مثنوی بشکل ’’تنویر القرآن‘‘ عنایت کی اس فرمائش کے ساتھ کہ میں اس کے تعلق سے اپنے دلی جذبات سپرد قلم کردوں۔وقت کی تنگی اور اپنی مصروفیات کے پیش نظر اس عظیم الشان و ایمان افروز کارنامے کو جگہ جگہ سے ہی مطالعہ کرپایا۔بہر حال جو کچھ بھی دیکھا وہ حاضر خدمت ہے۔
تنویر القرآن کی طباعت اعلیٰ درجہ کی ہے دیدہ زیب ٹائٹل یا سر ورق ہر با ذوق قاری کو دعوت نظارہ دیتا نظر آ رہا ہے۔کتاب کا سائز و کاغذ کا معیار اوسط نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کا ہی معلوم ہوتا ہے پروف ریڈنگ میں بھی کافی عرق ریزی سے کام لیا گیا ہے۔
فاضل نظم نگار نے کنز الایمان و خزائن العرفان کو منظوم جامہ جس خوش اسلوبی سے پہنایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے اس کے علاوہ ترجمہ سے قبل ’’عرض مصنف‘‘ میں ’’شان فرقان حمید‘‘ کے تحت قرآن مقدس کی شان کو اشعار کے جامے میںنہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے جو تقریباً ۵۰؍ صفحات پر محیط ہے ایک جھلک ملاحظہ کریں۔

نوعِ انسانی کے حق میں ہے وہ دستورِ حیات
اِک مکمل نادر و نایاب منشورِ حیات
بخشتا ہے زندگی کو وہ تنوع و تازگی
اور دیتا ہے دماغ و ذہن کو بالیدگی
نظم و ترتیبِ کلامِ حق ہے آپ اپنی نظیر
اُس کی زلفِ ناز کا ہر ماہرِ فن ہے اسیر
فہمِ قرآنِ مقدس کے وسائل ہیں کثیر
جس کو چاہے بخشے اپنے فضل سے ربِّ قدیر

۔پھوٹتی ہیں در حقیقت اس سے نہریں بے شمار
جن کا ہر قطرہ ہے علم و آگہی کا آبشار
اِس میں کوئی شک نہیں قرآن ہے رازِ محیط
جس کی وسعت تک پہنچ سکتی نہیں فکرِ بسیط
کر نہیں سکتا کوئی اس کے عجائب کا بیاں
پا نہیں سکتا زمانہ اس کی عظمت کا نشاں

اس کے بعد ’’تعارف صاحب کنز الایمان‘‘کے طور پر امام اہلسنت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کا تذکرۂ جمیل بڑی ہی انفرادی شان و شوکت کے ساتھ کیا گیا ہے ، تقریباً ۴۰؍ صفحات پر پھیلی ہوئی منظوم سوانح سیدی اعلیٰ حضرت کی بڑے ہی ادبی و فنی پیرائے میں دیکھنے کو ملتی ہے چند اشعار ملاحظہ کریں۔

در حقیقت وہ ہیں شاہنشاہِ اقلیمِ سخن
بکھری ہے اُن کی تجلی انجمن در انجمن
یادگارِ بو حنیفہ، نائبِ غوثُ الوریٰ
رہنمائے اہلسنت پیکرِ عشق و وفا

رب نے حضرت کو جو قرآں فہمی کا ملکہ دیا
اس کے صدقے میں انہوں نے ہم کو اِک تحفہ دیا
’’کنز الایماں ‘‘کے جو نامِ پاک سے موسوم ہے
جس کے تابندہ نظاروں کی جہاں میں دھوم ہے
حلقۂ علم و ادب میں داد کے لائق ہے یہ
ہیں تراجم جو بھی، سب پر واقعی فائق ہے یہ

پڑھ کے یہ کوثر نیازی لکھ گئے بے ساختہ
عشق افروز اور ادب آموز ہے یہ ترجمہ

بعد ازاں صاحب خزائن العرفان کی شخصیت کا ذکر جمیل بھی خوب سے خوب تر ہے ، خزائن العرفان کی شان امتیازی کو فاضل نظم نگار نے بڑے ہی دلکش انداز میں بیان کیا ہے ۔

بیسیوں کتب و رسائل کے مصنّف ہیں نعیم
کاشفُ الاسرار ہیں فخرُ المعارف ہیں نعیم
کنزُ الایماں پر حواشی ہیں اُنہی کی یادگار
آج نازاں جن پہ ہیں سب عالمانِ ذی وقار
اِن کو ’’عرفاں کے خزائن‘‘ سے ہے دنیا جانتی
اِن سے قائم فکری حلقوں میں ہے امن و شانتی
یہ حواشی صورتِ تفسیر میں ہیں مختصر
حسن کا دریا، معانی کا سمندر ہیں مگر
حضرتِ صدرُ الافاضل کے نصیبے تر گئے
یہ حواشی زندۂ جاوید اُن کو کر گئے

اس کے بعد موصوف نے ’’حالات مصنف‘‘ کے تحت اپنے حالات جس سادگی ، خلوص و سچائی سے بیان کئے ہیں کہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ اس کے بعد دیباچہ میں فاضل نظم نگار نے حمد باری تعالیٰ سے شروع کرکے نعت و منقبت کے اشعار پیش کرنے کے بعد بڑی ہی عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنے رب سے دعا کی ہے آپ بھی ملاحظہ کریں۔

ایک میں کیا اور کیا ہے میری اوقاتِ قلم
ان مشائخ نے زمانے بھر کا رکھا ہے بھرم
کاش ہو مقبولِ حق میرا بھی ذوقِ شاعری
پایۂ تکمیل کو پہنچے مرادِ زندگی

اس کے بعد مولانا نے اصل شاعری یعنی کنز الایمان و خزائن العرفان کو اردو مثنوی کی شکل میں جو منظوم جامہ پہنایا ہے اس میں موصوف بحمدہ تعالیٰ پوری طرح کامیاب و کامراں ہوئے ہیں ۔ یہ میں کسی جذباتی تلاطم میں بہنے کی وجہ سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ حقیقت کے اظہار کے طور پر عرض کر رہا ہوں اور انشاء اللہ عنقریب زمانہ یہ سب اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کرے گا۔
یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اردو زبان وادب پر تقریباً آغاز سے ہی شاعری کا تسلط رہا ہے،اردو زبان کی ابتدا کے کافی بعد یعنی کہ تقریباً انیسویں صدی کے آغاز میں اردو ادب کے شہ سوار اردو نثر کی طرف مائل ہوئے ہیںحالاںکہ دور جدید یا یوں کہئے کہ عالمی ادب میں موجودہ صدی نثر کی صدی ہے،تاہم شاعری کی قدر وقیمت اپنی جگہ مسلم ہے ۔یعنی کہ وہ بھی عالمی ادب میں نثر کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے، اور لگتا یہی ہے کہ چلتی رہے گی، اور کیوں نہ ہو کہ جب شاعری میں نعت وقصیدہ کا اتنا روح پر ور و مقدس ذخیرہ شامل ہے۔
مولانا کیف الحسن صاحب نے کنز الایمان وخزائن العرفان کی ترجمانی کے لیے اردو شاعری کی ایک مقبول صنف یعنی مثنوی کو اپنایا ہے۔ مثنوی کی ہیت (form)کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ اس میں موضوع اور تعداد اشعار کی کوئی قید نہیں ہے،شاعر آزاد ہے،چاہے جتنے شعر کہے اپنی اس وسعت موضوع اور فنی لچک ہی کے سبب اسے اردو شاعری کی تمام اصناف کا جامع کہا جاسکتا ہے۔
اردو ادب کے ایک بڑے نقاد شبلی نعمانی اس صنف کے بڑے مداح رہے وہ شعرالعجم میں لکھتے ہیں:
’’انواع شاعری میں یہ صنف تمام انواع شاعری کی بہ نسبت زیادہ مفید ،زیادہ ہمہ گیر ہے۔شاعری کی جس قدر انواع ہیں سب اس میں نہایت خوبی سے ادا ہوسکتی ہیں‘‘(شعر العجم ،ج:۴،ص:۲۴۷)
حالی جنہوں نے اپنے مقدمہ شعرو شاعری میں اس صنف پر کافی بحث کی لکھتے ہیں:
’’الغرض جتنی صنعتیں فارسی اور اردو شاعری میں متداول ہیں ان میں کوئی صنٖف، مسلسل مضامین بیان کرنے کے قابل مثنوی سے بہتر نہیں ہے یہی وہ صنف ہے جس کی وجہ سے فارسی شاعری کو عرب کی شاعری پر ترجیح دی جاسکتی ہے‘‘(مقدمہ شعر وشاعری ،ص:۲۰۳)
مثنوی کی اس وسعت موضوع یا فنی لچک پر نظر رکھنے کے بعد اگر ہم مولانا کیف الحسن صاحب کے تنویر القرآن پر نظر ڈالیں تو انہوں نے بھی اس خوبصورتی وخلوص کے ساتھ اپنی شاعری کو اپنے دل کی آواز بناکر پیش کیا ہے۔

طالب علمی سے مجھ کو شاعری کا شوق ہے
یوں سمجھئے میرے حق میں یہ انوکھا ذوق ہے
کہ اسے میں نے کبھی باضابطہ سیکھا نہیں
سچ یہ ہے استاذ اس فن میں کوئی میرا نہیں
ہاں نہ بھولوں گا کبھی البتہ ایک رہبر کا نام
اور وہ رہبر ہے بس احمد رضا خاں کا کلام
شاعریٔ اعلی حضرت رہبری فرماگئی
اور میری باتوں میں موزونی کامل آگئی

ایک شاعر کے سامنے اس کا مقصد سب سے اہم ہوا کرتا ہے اپنی فکر کو فن کے سانچے میں وہ ڈھالتا ہے اپنے خون جگر سے اپنی فکر کو فن کے خوبصورت سانچے میں ڈھالنے کے لیے اس کے سامنے ایک مقصد ہوا کرتا ہے کہ آخر بے مقصد تو کوئی اپنے راتوں کی نیندوں کو قربان نہیں کرتا ،کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے آئیے دیکھیں مولانا کا مقصد ومطلب !

میرے دل میں ایک دن آیا اچانک یہ خیال
کہ جہاں تک شاعری میں پیش کش کا ہے سوال
تو نہ کیوں، کر جاؤں کوئی کام ایسا یادگار
جس سے ہو دارین میں خوش مالک روز شمار
اور جس سے پالوں محبوب دوعالم کی رضا
دین کی تبلیغ سے جا ملتا ہو جس کا سرا
یہ خیالِ جانفزا کام اپنا آکر کر گیا
میرے حق میں خدمت قرآن مقدر کر گیا
آگیا حرکت میں خامہ دیکھتے ہی دیکھتے
چڑھ گیا پروان جذبہ دیکھتے ہی دیکھتے
کنزالایمان جس مبارک ترجمہ کا نام ہے
نظم میں اس کا پرونا آج میرا کام ہے
کیا ہی اچھا ہو اگر تفسیر بھی منظوم ہو
ہر ادا سے کنز الایماں کا عیاں مفہوم ہو

مولانا کیف الحسن صاحب کے دیباچہ کے یہ اشعار لکھتے اور پڑھتے وقت میرے ذہن میں شاہ نامہ اسلام کے شاعر ابوالاثر حفیظ جالندھری کے یہ اشعار آرہے ہیں۔

کیا فرودسیٔ مرحوم نے ایران کو زندہ
خدا توفیق دے تو میں کروں ایمان کو زندہ
تقابل کا کروں دعوی یہ طاقت ہے کہاں میری
تخیل میرا ناقص، نامکمل ہے زباں میری
زبانِ پہلوی کی ہم زبانی ہو نہیں سکتی
ابھی اردو میں پیدا وہ روانی ہو نہیں سکتی
کہاں ہے اب وہ دورِ غزنوی کی فارغ البالی
غلامی نے دبا رکھی ہے میری ہمتِ عالی

انہی حفیظ جالندھری کا ایک شعر جو کہ شاہ نامہ اسلام کی وجہ تالیف بتاتا ہے ملاحظہ کریں۔

تمنا ہے کہ اس دنیا میں کوئی کام کر جاؤں
اگر کچھ ہوسکے تو خدمت اسلام کر جاؤں

حفیظ صاحب کا یہ شعر ذہن میں رکھیئے اور مولانا کیف الحسن صاحب کے یہ دو اشعار

تو نہ کیوں، کر جاؤں کوئی کام ایسا یادگار
جس سے ہو دارین میں خوش مالک روز شمار
اور جس سے پالوں محبوب دوعالم کی رضا
دین کی تبلیغ سے جا ملتا ہو جس کا سرا

شاہ نامہ اسلام کی مقبولیت جگ ظاہر ہے اور ان شاء اللہ مستقبل قریب میں ادب کا مؤرخ تنویرالقرآن کی مقبولیت کی داستان رقم کرتا نظر آئے گا اور کیوں نہ ایسا ہو کہ ان کے انداز بیان میں کنزالایمان کی جامعیت واختصار ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے،تو بے ساختہ دل سے واہ واہ نکلتی ہے ۔

ازروئے تفسیر ہم پاتے ہیں اس کے ۲۰؍ نام
اللہ اللہ! کیسی عظمت والا ہے رب کا کلام

سورہ فاتحہ کے تعلق سے ذرا ملاحظہ فرمائیں۔

سات آیاتِ کریمہ، کلمے ستائیس ہیں
اور حروف اس میں مکمل ایک سو چالیس ہیں
فاتحہ میں قدرے قیل وقال کی حاجت نہیں
ان میں سے منسوخ یا ناسخ کوئی آیت نہیں

قرآن مقدس کی پہلی وحی کے نزول کے تعلق سے کیا ہی بہترین انداز بیان سے تفسیر قرآنی کو پیش کیاہے۔

بعض لوگوں کے یہاں منقول ہے یہ واقعہ
مصطفی نے ایک دن بی بی خدیجہ سے کہا
اکثر ایک آواز ٹکراتی ہے میرے کان سے
کوئی اقرا بول کر پڑھنے کو کہتا ہے مجھے
اس حقیقت کا پتہ جب ابن نوفل کا چلا
بولا اطمینان سے سنئے جب آئے یہ ندا

بعدہ جبرئیل نے خدمت میں آکر عرض کی
پڑھئے بسم اللہ اور الحمد للہ یا نبی

سورہ فاتحہ کے تعلق سے نادر مسائل اور ان کا انداز بیان ۔

اس روایت سے بہ حسن و خوبی چلتا ہے پتہ
کہ ہوا آغاز قرآں کا بہ شکل فاتحہ
یاد جب تک ہو نہ اے لوگوں جنازے کی دعا
فاتحہ کی سورہ اس کے بدلے پڑھنا ہے روا

بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ترجمہ دیکھیں۔

رب تعالی کے مبارک نام سے ہے ابتدا
رحم والا جو بہت ہے صاحب رحمت بڑا

تفسیر۔۔۔۔ دے رہی ہے دعوت ِنظارہ شان بسملہ

بسملہ ہے آیتِ قرآں یقینی طور پر
وہ عظیم الشان ہر انداز سے ہے سر بسر
لیکن اس کو کہہ نہیں سکتے ہیں جزوِ فاتحہ
بلکہ کوئی سورہ ہو، سب سے جدا ہے بسملہ
اس کو آغاز نماز آہستہ پڑھنا چاہئے
آگے اس قانون شرعی سے نہ بڑھنا چاہئے
یہ بخاری اور مسلم کی روایت دیکھئے
سرور کونین کی محبوب سنت دیکھئے

سورہ بقرہ کی شان نزول اور اس کی برکتیں کس دل نشینی کے ساتھ ،تفسیر قرآن کے تمام ضابطوں کی روشنی میں نظم کی ہیں۔ملاحظہ کریں۔

وعدۂ حق تھا کہ اے پیارے محمد مصطفی
ایک کتاب ایسی تمہیں فرمانے والا ہوں عطا
پانی سے دھو کر نہ جو ہرگز مٹائی جا سکے
جو نہ کہنہ ہو مثال اس کی نہ دنیا لا سکے

جو پڑھے گا اس کی دس آیات اس انداز میں
اولاً چار آیتیں وارد ہیں جو آغاز میں
آیت الکرسی پھر اس کے بعد کی دو آیتیں
آخرِ سورہ کی تین آیات سب سے بعد میں
تو وہ رب کے فضل سے قرآں نہ بھولے گا کبھی
قبل خفتن یہ عمل شب میں مگر ہے لازمی

بعد از تدفین میت آیتیں پڑھنے کے حکم کو ذرا مثنوی کی شکل میں دیکھیں۔
دفن کر کے مردے کو جب تم فراغت پا چکو
تو شروعِ بقرہ کی آیات سرہانے پڑھو
اور پڑھو آیات آخر کی، لحد کے پائنتی
اس کے روای بن عمر ہیں، یہ ہے فرمانِ نبی

ایک اور مقام پر ملاحظہ کریں ۔


رکھتا ہے قرآں دلیلیں ایسی واضح اور قوی
پیش کرتا ہے وہ انداز شعور و آگہی
جن سے ہر ذی عقل ہر منصف کا دل ہے باغ باغ
جن سے لگ جاتا ہے لمحوں میں حقائق کا سراغ
قابلِ شک پس کسی انداز سے قرآں نہیں
ہے دلاتا اپنے حق ہونے کا کامل تر یقیں
جیسے اندھے کو ہو انکارِ نمودِ آفتاب
شک کے قابل ہو نہیں سکتا وجودِ آفتاب
ایسے ہی مشکوک یہ قرآن ہو سکتا نہیں
مشتبہ اللہ کا فرمان ہوسکتا نہیں

درج بالا چند نظائر فاضل نظم نگار کی زبان و بیان پر قادر الکلامی وفاضل بریلوی کی روحانی پیشوائی کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔فاضل نظم نگار نے مثنوی کی جملہ خوبیوں کو ادبی چاشنی کے ساتھ بھر پور انداز میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔سادہ وسلیس الفاظ کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔۔۔دعا ہے کہ مولی عز وجل اپنے حبیب رؤف ورحیم ﷺ کے صدقے میں مولانا کے قلم میں دن دنی رات چوگنی برکتیں عطا فرمائے۔ اور کنز الایمان وخزائن العرفان کے پورے تیس پاروں کی تفسیر اسی طرح دلکش انداز میں منظر پر آئے اور رضویات کے اس سلسلے کو جو یقینا عالمی ادب کا ایک بہترین حصہ ہے مزید درخشندگی وتابانی عطا فرمائے۔آمین۔بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم


(بشکریہ ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف شمارہ ۲۰۱۹ء)