Skip to main content
نعت

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

By September 8, 2021No Comments

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلف دوتا کردیں

جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں

نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں

جہاں میں ان کی چلتی ہے وہ دم میں کیا سے کیا کردیں

زمیں کو آسماں کردیں ثریا کو ثریٰ کردیں

فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندا کردیں

وہ جب چاہیں جسے چاہیں اسے فرماں رَوا کردیں

ہر اک موجِ بلا کو میرے مولیٰ ناخدا کردیں

مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں

ہر اک موجِ بلا کو بحر غم میں ناخدا کردیں

مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں

عطا ہو بے خودی مجھ کو خودی میری ہوا کردیں

مجھے یوں اپنی الفت میں مرے مولیٰ فنا کردیں

جہاں میں عام پیغام شہ احمد رضا کردیں

پلٹ کر پیچھے دیکھیں پھر سے تجدید وفا کردیں

نبی سے ہو جو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں

پدر ، مادر ، برادر ، مال و جاں ان پر فدا کردیں

تبسم سے گماں گزرے شب تاریک پر دن کا

ضیائِ رخ سے دیواروں کو روشن آئینہ کردیں

شب تاریک پر دن کا گماں گزرے تبسم سے

ضیائِ رخ سے دیواروں کو روشن آئینہ کردیں

کسی کو وہ ہنساتے ہیں کسی کو وہ رلاتے ہیں

وہ یونہی آزماتے ہیں وہ اب تو فیصلہ کردیں

گلِ طیبہ میں مل جائوں گلوں میں مل کے کھل جائوں

حیاتِ جادوانی سے مجھے یوں آشنا کردیں

یہ دورِ آزمائش ہے انہیں منظور ہے جب تک

نہ چاہیں تو ابھی وہ ختم دورِ ابتلا کردیں

سگ آوارۂ صحرا سے اُکتا سی گئی دنیا

بچائو اب زمانے کا سگانِ مصطفیٰ کردیں

زمانہ خوگر مے ہے نئی مے کی ضرورت ہے

پلا کر اپنی نظروں سے وہ تجدید نشہ کردیں

مجھے کیا فکر ہو اخترؔؔ مرے یاور ہیں وہ یاور

بلائوں کو جو میری خود گرفتارِ بلا کردیں

Leave a Reply