Skip to main content
Lyricsسلاممنقبت

محسنہء اسلام جنابءخدیجہ سلام اللہ علیہا

By May 16, 2019No Comments

10 رمضان یومء وصال

“محسنہء اسلام جنابءخدیجہ سلام اللہ علیہا”

آغازء تبلیغء اسلام کے وہ دن رات؟
ھر لمحہ وہ منڈلاتے ھوئے اطراف سے خطرات۔
عقیدت میں الجھے ھوئے اقوام کے جذبات؟
اور حرمء خداوندی میں اصنام کی بہتات۔

جہالت میں ھدایت کا وہ امکان نہیں تھا؟
سب کچھ تھا مگر خالق کا عرفان نہیں تھا۔

جب دینء محمد پہ اک کوہء الم تھا؟
کفار کے نرغے میں اندیشہء غم تھا؟
عمران محافظ تو عدو عرب و عجم تھا؟
اس وقت بھی رحمت پہ اک ابرء کرم تھا۔

ثروت میں رسالت کی مددگار رھی ھے؟
خدیجہ جیسے اللہ کی تلوار رھی ھے۔

خالق نے جسے پردہء اخلاص میں رکھا؟
محبوب کے پاکیزہ سے اخلاص میں رکھا۔
محفوظ جسے خلد کی بوو باس میں رکھا؟
اس ظرف میں پھر زھرہ سے الماس کو رکھا۔

جو محمد کے ھر غم کی خریدار رھی ھے؟
ھر لمحہ وہ حق کی طرف دار رھی ھے۔

غربت میں محمد کی سخاوت کا سبب ھے؟
اور نگاہء پنجتن میں اک حدء۔ ادب ھے؟
باطل کی تباھی کے لیئے ضربء عضب ھے۔
حد ھے کہ اس کا غصب رب کا غضب ھے۔

یہ جادہء حق پہ اک حرفء یقیں ھے؟
یہ دینء محمد کے لیئے فتحء مبیں ھے۔

کیا! دیں سے تیرا کوئی بھی الحاق نہیں ھے؟
کیوں امت کو تیری ھستی کا ادراک نہیں ھے۔
کیا یہ بھی محمد’ص کو اک شاک نہیں ھے؟
کچھ یاد تیری خدمت کا وہ اسباق نہیں ھے۔

بیحسی پہ کیا کیجئے فریاد کسی کو؟
کلمے کے سوا کچھ بھی نہ ھو گر یاد کسی کو۔

ممنون تیرا مالکء یزدان ھے بی بی؟
شوھر تیرا نبیئوں کا سلطان ھے بی بی۔
تا حشر تیرا دین پہ احسان ھے بی بی؟
اولاد تیری وارثء قرآن ھے بی بی۔

امکان سے بھی آگے تیرے عرفان کی حد ھے؟
رتبے میں تو آلء محمد’ع کی بھی جد ھے۔

اچھا ھے کہ دیکھے نہیں تو نے وہ حالات؟
وہ پہلو شکستہ وہ دربار کے خطبات۔
پلتے رھے تیرے ھی ٹکڑوں پہ جو دن رات؟
بالآخر وہ بن گئے تیری بیٹی کے صدمات۔

تیرے بعد محمد کی یہ رحلت کا اثر تھا؟
نیزے پہ بلند دشت میں شبیر کا سر تھا۔

اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي
وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم ❤
اللھم ربنّا آمین