Naatepaak

مجموعہ نعت ردیف : شاہِ زمن

By June 4, 2020No Comments

آپ ہیں شمس الضحیٰ ، بدرالدجیٰ ، شاہِ زمنؐ
سرورِ دنیا و دیں ، بحرِ عطا، شاہِ زمن

باعثِ تسکین و راحت آپ کی ایک اک ادا
زیست کے روحِ رواں ہیں برملا، شاہِؐ زمنؐ

آپ کی آمد سے ٹوٹے تیرگی کے سب حجاب
ترجمانِ وحدتِ حق ہیں سدا، شاہِ زمنؐ

ہیں تری آمد پہ رقصاں اہلِ گلشن بھی تمام
مرحبا ! بے خود ہوئی ساری فضا، شاہِ زمن

گلستاں کی وجہِ شادابی تری ذاتِ یمن
مشعلِ بزمِ ہدا، مشکل کشا، شاہِ زمنؐ

اسمِ اطہر ہے تراؐ اے ذی حشم، مُشکِ ختن
لے لیا جس نےمعطر ہو گیا ، شاہِ زمنؐ

زلف کو تشبیہ دی شب سے، رخِ انور کا چاند
والضحیٰ ہے، رب نے فرمایا تراؐ، شاہِ زمنؐ

دیں گے جب روزِ جزا حق کو تمھارا واسطہ
بخش دے گا آپ کے صدقے خدا، شاہِ زمنؐ

عرش سے تا فرشِ ہےدریاۓرحمت موجزن
معدنِ جود و سخا ہے، بے شبہ ، شاہِ زمنؐ

کب ملائک نے کیاہے ترک روضے کا طواف
حشر تک جاری ہے اب یہ سلسلہ، شاہِ زمنؐ

زینبِ عاصی کے سر پربھی رکھیں دستِ کرم
بے نہایت یہ شرف کر دیں عطا، شاہِ زمنؐ

سیدہ زینب سروری

کیجیے مجھ پر کرم شاہِ زمن
آپ ہیں شاہِ اممّ شاہِ زمن

روشنی ہی روشنی ہیں خیر سے
آپ کے نقشِ قدم شاہِ زمن

آپ کی سیرت کا اک اک زاویہ
کر رہی ہوں میں رقم شاہِ زمن

حاضری کا اذن اب فرماٸیے
دردِ فرقت ہو یہ کم شاہِ زمن

رحمت اللعالمیں ہیں آپ ہی
والی ٕ عرب و عجم شاہِ زمن

آپ پر قربان میرے جان و دل
سب کا رکھتے ہیں بھرم شاہِ زمن

کیجیے شہناز پر بھی التفات
اب تو آنکھوں میں ہے دم شاہِ زمن

 شہناز رضوی 

دو جہاں کن فکاں تیرے زیرِ قدم ہیں اے شاہِ زمن
تیرے خادم ملَک اور عرَب تا عجَم ہیں اے شاہِ زمن

سب کے سب آسمان و زمیں تیری مدحت کے قرطاس ہیں
اور سارے جہانوں کے ہاتھوں قلم ہیں اے شاہِ زمن

تیرے ہی ذِکر کی رفعتوں کو رَفَعْنَا کا اعزاز ہے
تیری عظمت پہ قرآں میں حرفِ قسم ہیں اے شاہِ زمن

تیری زلفوں کے چھینٹے اگر میں کہوں تو وجود و عدَم
تیری آنکھوں کی گردِش حدوث و قِدَم ہیں اے شاہِ زمن

عالَمیں تیری نکہَت کے احساس سے ہیں مہکتے ہوۓ
تیرے دَم سے کِھلے باغ ہاۓ اِرَم ہیں اے شاہِ زمن

عالَمِ روح کے عالَمِ ہست کے جتنے افراد ہیں
سب کے سب ہی ترے حکم کے آگے خَم ہیں اے شاہِ زمن

اے رسولِ اَمین ایک ثرمینٓ کا حرفِ آمین یہ
ہو قبولِ مآب آپ دافع اَلَم ہیں اے شاہِ زمن

از : ثرمین صدیقی قادریہ رضویہ

آپ سے فریاد ہے شاہ امم شاہ زمن
اپنی بےبس امتی پر ہوکرم شاہ زمن

ہو رہی ہےہر طرف سے آپکی امت زلیل
منکروں کی خوب ہےدہشت ستم شاہ زمن

یوں تو سارےانبیاءہیں افضل و اعلیٰ ترین
آپ ہیں اُن سب کے سرور محترم شاہ زمن

آپ ہی کےدر کا کھایں اور گستاخی کریں
نجدیوں میں ہےنہیں غیرت شرم شاہِ زمن

کیوں نہ خیبر کو فتح کرتے عَلِیُ المرتضیٰ
دست قدرت سے ملا اُن کو عَلَم شاہ زمن

دل ہے مردہ، دیجئے اُسکو حیاتِ جاویداں
رکھ کے اس پہ اپنےپاکیزہ قدم شاہ زمن

سجدۂِ دل کو بہت ہےجستجو طیبہ کی اب
ہر جگہ ہوتا نہیں دل اپنا خم شاہ زمن

آپ کے صدقےملے ہیں سیدی اختر رضا
اُنکےصدقےحشرمیں رکھنابھرم شاہ زمن

لاکھ کوشش کرلےنمؔرہ،پر کبھی ہوگا نہیں
قابلِ مدحت یہ قرطاس و قلم شاہ زمن

از: نمرہ خان قادریہ رضویہ(ممبئی)

شمس و قمر ارض و سما کی عظمتیں شاہ زمن
ہے دم سے تیرے انجمن کی رونقیں شاہ زمن

رب نے تمہیں ان کنجیوں سے یوں نوازا ہے شہا
قربان تیرے قدموں پر سب نعمتیں شاہ زمن

جس سے محبت ہے تجھے اس سے محبت ہے مجھے
ہیں منسلک تجھ سے فقط سب چاہتیں شاہ زمن

دنیا کے جب دکھ درد سے میرا ہوا بے چین دل
نام محمد سے ملیں ہیں راحتیں شاہ زمن

ہم کو کبهی رمضان میں آقا دکهانا کاش وہ
طیبہ کی جو مقبول ہیں سب ساعتیں شاہ زمن

تو عرش کا مہماں بنا خالق کا تو ہی راز داں
پائی ہیں فضل مولی سے وہ رفعتیں شاہ زمن

چہرہ منور ہے ترا زلفیں معطر ہیں تری
قرآں تری کرتا بیاں ہے عادتیں شاہ زمن

عرش بریں فرش زمیں میں کچھ نہ تجھ سے ہے چهپا
تیرے لئے ہی وہ سبھی ہیں طاقتیں شاہ زمن

فہمِ سخن ملنے لگا نعتِ نبی لکھنے لگی
بس نازؔ کو تجھ سے ہی سب ہیں نسبتیں شاہ زمن

عروج فاطمہ اشرفی

شمس الضحٰی بدر الدجٰی روشن بدن شاہِ زمن
میرے نبی خیر الورٰی شیریں سخن شاہِ زمن

شمس و قمر روشن ہوۓ صدقہ تِرا پا کر شہا
نوری ستارے سج گیۓ چمکا گگن شاہِ زمن

پہنچے قدم جس جا تِرے خوشبو تِری پھیلی وہاں
تیرا پسینہ جو ملا مہکی دلہن شاہِ زمن

چشمِ کرم کر دو شہا کافور ہو اب ہر وبأ
سارا جہاں غمگین ہے سونا چمن شاہِ زمن

اے چارہ گر شاہِ امم محبوبِ رب کر دو کرم
آفات سے محفوظ ہوں اھلِ سنن شاہِ زمن

اے جانِ جاں جانِ جہاں ہم کو مدینے لو بلا
رشکِ قمر جانِ چمن آقاۓ من شاہِ زمن

اے شاہِ دیں بس اِک جھلک مجرم و خاطی ہوں اگر
پھر بھی تِرے دیدار کو ترسے نَیَن شاہِ زمن

تیری ثنأ کرتی رہوں جب تک شہا زندہ رہوں
مر کر چلوں دنیا سے جب مہکے کفن شاہِ زمن

شاداں کی ہے اِک التجا یاسیدی یامصطفٰی
میں جو کروں تیری ثنأ مہکے سخن شاہِ زمن

غزالہ شاداں صدیقی رضوی