Skip to main content
Naatepaak

قافلہ نعت کا

By مئی 28, 2021No Comments

لوگ آتے گئے، راہ کھلتی گئی، آگے بڑھتا رہا، قافلہ نعت کا
نعتِ محبوبﷺ سے پیار ہے اس قدر خود خدا بن گیا رہنما نعت کا

وہ نہ رکھتے اگر سر پہ دستِ کرم سخت دشوار تھا مرحلہ نعت کا
ان‌ کی تائید سے ہے مرے ہاتھ میں جگمگاتا ہوا آئینہ نعت کا

مصطفےٰﷺ کی ثنا ختم اسی پر ہوئی ، ختم اسی پر ہے تعریف نعت نبیﷺ
بعد رب العلیٰ ذاتِ محبوبﷺ رب ، بعد حمد خدا مرتبہ نعت کا

بوند بھر روشنی کو ترستے رہے سورجوں کی طرف لوگ تکتے رہے
کوۓ ادراک میں طاق انفاس پر میں نے روشن کیا اک دیا نعت کا

جس قدر ہوسکے دیکھتے جائیے جس قدر ہوسکے سوچتے جائیے
بزمِ کونین ہو جس کی وسعت میں گم اس قدر ہے بڑا دائرہ نعت کا

ساحلِ فکر پر دیکھ کر روشنی جوۓ حرف و نوا موجزن ہوگئی
جستجو کے دیئے جب بھی روشن کئے گوہر بے بہا مل گیا نعت کا

دل سے آنے لگی یہ صدا ہر گھڑی تشنہ آنکھیں مری کہہ رہی ہیں یہی
جلد پہنچا مجھے انﷺ کی دہلیز تک اے خدا اے خدا دے‌ صلہ نعت کا

اس سے کم میں نہ آۓ گا دل کو سکوں اس سے کم میں نہ راضی ہو میرا جنوں
اے سخن کے خدا کر دے مجھ کو عطا رنگ سب سے جدا اور نیا نعت کا

آتشِ شوق سے خوب دہکاۓ تن اپنی خوشبو سے مہکائے میرا بدن
دل کو مسکن کرے ذہن کو گھر کرے مجھ کو منظور ہے فیصلہ نعت کا

پرچم آمدِ مصطفےٰﷺ کھل گیا طائروں میں پڑا شور صل علیٰ
رقص کرتی ہے گلشن میں بادِ صبا شاخ در شاخ ہے غلغلہ نعت کا

نعمتیں خلد کی دور رکھو ابھی فرشتو نہ یاوؔر کو چھیڑو ابھی
نامِ سرکارﷺ سے تر ہے اس کی زباں اس کے ہونٹوں پہ ہے ذائقہ نعت کا

کلام:
یاور وارثی