Skip to main content

فرش تا عرش ہے جو حسن و جمال اچھا ہے
سب خیالوں سے محمد کا خیال اچھا ہے

ہجر لاحق ہو تو لیتے ہیں مزہ دوری کا
قرب حاصل ہو تو کہتے ہیں وصال اچھا ہے

یادِ سرکار میں جو رہتا ہے دل پر طاری
ساری خوشیوں سے وہی حزن و ملال اچھا ہے

گلشنِ جاں میں مہکتے ہیں درودوں کے گلاب
اس لیے مجھ سے گنہگار کا حال اچھا ہے

فیض سے جس کی فصاحت نے تعارف پایا
وہ شہہ اہلِ سخن,شیریں مقال اچھا ہے

ان کی آمد سے ہلے قیصر و کسریٰ کے مکاں
دبدبہ,رعب یہ ہیبت یہ جلال اچھا ہے

جس کے اَسْہَدْ کو ہے اَشْہَدْ پہ تفوّق حاصل
سارے اصحاب میں کیا نطقِ بلال اچھا ہے

شہرِ طیبہ کی فضاؤں میں جو ہوجائے بسر
وہ مہینہ,وہی ہفتہ,وہی سال اچھا ہے

آپ سے آپ کو شہزاد نے مانگا آقا
سائل اچھا نہیں سائل کا سوال اچھا ہے

کلام:
علامہ شہزاد مجددی