Skip to main content
نعت

غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ

By September 7, 2021No Comments

غیر ممکن ہے ثنائے مصطفیٰ
خود ہی واصف ہے خدائے مصطفیٰ

دل میں دے یارب ولائے مصطفیٰ
اور سینہ میں ہوجائے مصطفیٰ

تیرے پیارے کا میں دیوانہ بنوں
یہ دعا ہے اے خدائے مصطفیٰ

مصطفیٰ ہیں ساری خلقت کے لیے
ساری خلقت ہے برائے مصطفیٰ

ڈھونڈھتے ہیں سب رضا اللہ کی
چاہتا ہے حق رضائے مصطفیٰ

کیا نسیم خلد خوش آئے اسے
جس کے سر میں ہو ہوائے مصطفیٰ

رزق کیا ہر چیز کے قاسم ہیں وہ
دین رب کی ہے عطائے مصطفیٰ

رہ گئے سدرہ پہ جبرئیل امیں
عرش سے بھی پار جائے مصطفیٰ

دشت طیبہ میں بہار خلد ہے
جان جنت ہے سرائے مصطفیٰ

منتظر ہیں جنتیں اس کے لیے
ورد ہے جس کا ثنائے مصطفیٰ

میری امت میری امت بخش دے
ہے یہی ہر دم دعائے مصطفیٰ

روز محشر ان کے بندوں کے لیے
راہبر ہوگی ضیائے مصطفیٰ

حکم حق ہوگا کہ جائے سب سے قبل
خلد میں ہر ہر گدائے مصطفیٰ

پل سے گزریں ان کے بندے بے خطر
رَبِّ سَلِّم ہے صدائے مصطفیٰ

یوں پکارے گا منادی حشر میں
عاصیوں مژدوہ آئے مصطفیٰ

اپنی امت کو چھڑانے کے لیے
حشر میں تشریف لائے مصطفیٰ

جانکنی کے وقت ازراہِ کرم
چہرۂ انور دکھائے مصطفیٰ

پوچھتے کیا ہو فرشتو قبر میں
بندۂ حق ہوں گدائے مصطفیٰ

قبرو محشر کا یہی ہے اک جواب
بندۂ حق ہوں گدائے مصطفیٰ

مہر محشر مجھ پہ ہوجائے گا سرر
بندۂ حق ہوں گدائے مصطفیٰ

کیوں ڈرائیں گی مجھے نارِجحیم
بندۂ حق ہوں گدائے مصطفیٰ

دو قدم میں ہوگی طے راہ صراط
بندۂ حق ہوں گدائے مصطفیٰ

زہدو طاعت کچھ نہیں ہے میرے پاس
بندۂ حق ہوں گدائے مصطفیٰ

روز محشر دھوپ میں ہوں گے عدد
ہم گدا زیرِ لوئے مصطفیٰ

چاہتا ہوں دل سے احمد کی رضا
مجھ سے راضی ہو رضائے مصطفیٰ

ہے تمنائے جمیل قادری
سر ہو میرا اور پائے مصطفیٰ

قبالۂ بخشش