Skip to main content
منقبت

علم والوں کی روشنی ہیں علی

By February 25, 2021No Comments

روشنی ہیں علی

مدحتِ شیر خدا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ

علم والوں کی روشنی ہیں علی
عشق والوں کی بندگی ہیں علی

اُن کی الفت ، نبی کی الفت ہے
نبضِ ایماں کی زندگی ہیں علی

آرہی ہے صداے “مَنْ کُنتُ”
سَر بَسَر جلوۂ نبی ہیں علی

دیکھو نظّارۂ شبِ ہجرت
عکسِ کردار احمدی ہیں علی

نقشِ “تطہیر” فردِ “فی القربیٰ”
گوہرِ بحرِ ہاشمی ہیں علی

قبلۂ کاروانِ اہلِ حق
کعبۂ جانِ ہر ولی ہیں علی

اُن کا نام آیا ، بڑھ گئ طاقت
ہر مسلمان کی خودی ہیں علی

ناز جن پر کرے شجاعت بھی
ایسے جانباز اور جری ہیں علی

“إنَّما” اور “وَلِیُّکُم” دیکھو
ہیں مددگار اور سخی ہیں علی

حُسنِ اسلام اُن سے نکھرا ہے
روے ملت کی دلکشی ہیں علی

شمس جن کے لیے ہوا واپس
آفتابِ شَرَف وہی ہیں علی

جیسے موسیٰ کے واسطے ہارون
یوں وزیرِ محمدی ہیں علی

ملک روحانیت کے شاہِ عظیم
ظِلّ دستِ پیمبری ہیں علی

اُن کا مکتب بنی ، نگاہِ رسول
یعنی پروردۂ نبی ہیں علی

شانِ اصحاب ، والدِ حسنین
راحتِ قلبِ فاطمی ہیں علی

حُبّ قلبِ عمر ، رفیقِ عتیق
رازدار دلِ غنی ہیں علی

شیر اسلام ، فاتحِ خیبر
آبروے بہادری ہیں علی

میرِ میخانۂ علوم و فنون
جانِ بزم سخنوری ہیں علی

پاؤں کی دھول، مہر و ماہ و نجوم
ایسے انوار کے دھنی ہیں علی

اُن سا آیا ہے اور نہ آئے گا
پہلے ہیں اور آخری ہیں علی

گلشنِ دینِ مصطفیٰ کی بہار
باغِ عرفاں کی تازگی ہیں علی

شمس جا ! پھر تجھے پلٹنا ہے
طاعتِ عشق میں ابھی ہیں علی

آ کے جانا نہ ان کی عصر تلک
سُن اے مَہرِ فلک ، علی ہیں علی

اِس لیے علم کے وہ باب ہوئے
ذاتِ سَروَر کی آگہی ہیں علی

اِس جہاں میں وہ مومنوں کے وکیل
حشر میں بھی سفارشی ہیں علی

کوئ دل سے اُنھیں پکارے تو
رہنمائ پہ آج بھی ہیں علی

اے فریدی وہ فخر اُمَّت ہیں
قلبِ اسلام کی خوشی ہیں علی

از فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان